امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بیانات کے بعد تجزیہ کاروں نے ان آپشنز کی نشاندہی کی ہے جن کے ذریعے امریکا ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسا قدم خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکا مشرقِ وسطیٰ میں عمان، قطر، بحرین، کویت اور عراق سمیت مختلف ممالک میں فوجی اڈے رکھتا ہے، جو اسے ایران کے خلاف فوری کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، مگر یہی موجودگی امریکی افواج کو ممکنہ جوابی حملوں کے خطرے سے بھی دوچار کرتی ہے۔

???? UPDATE — Trump instructed advisors: U.

S. strikes on Iran should aim for a quick, definitive impact on the regime, avoiding a drawn-out conflict. pic.twitter.com/FvGNb5n1WQ

— Vitamvivere (@Vitamvivere) January 15, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کی منظوری دیتے ہیں تو امریکا کے پاس کئی راستے موجود ہیں۔ ان میں علاقائی اڈوں سے فضائی حملے، خلیج فارس میں موجود بحری جہازوں اور آبدوزوں سے کروز میزائل داغنا، مسلح ڈرونز کے ذریعے حساس اہداف کو نشانہ بنانا، اور سائبر حملے شامل ہیں، جن کا مقصد ایرانی فوجی نظام اور مواصلاتی ڈھانچے کو مفلوج کرنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

اس کے علاوہ خفیہ اسپیشل فورسز آپریشنز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے اہم فوجی یا جوہری تنصیبات پر محدود حملے بھی ممکنہ آپشنز میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرونی فوجی دباؤ ایران کی قیادت کو اندرونی احتجاج کے مقابلے میں مزید متحد کر سکتا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام اور تصادم کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران پنٹاگون صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران پنٹاگون سکتا ہے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان