City 42:
2026-07-24@02:24:12 GMT

 چکن کھانے کے شوقین افراد کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی 

اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT

ویب ڈیسک: چکن کو طویل عرصے سے ایک صحت بخش غذا سمجھا جاتا رہا ہے تاہم حالیہ برسوں میں اس کی غذائی افادیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر چکن کو ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ پیٹ کے مختلف امراض سمیت دیگر خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

اگرچہ چکن کو عموماً سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت مند سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کا حد سے زیادہ استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو وزن کم کرنے یا فٹنس بہتر بنانے کے لیے روزمرہ خوراک میں چکن کو بڑی مقدار میں شامل کرتے ہیں، انہیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

 سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں پر پابندی عائد

حال ہی میں سامنے آنے والی اس تحقیق نے چکن کے حوالے سے موجود عام تاثر کو چیلنج کیا ہے اور اس کے بے جا استعمال پر خبردار کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مسلسل اور زیادہ مقدار میں چکن کھانے سے نظامِ ہاضمہ متاثر ہو سکتا ہے اور دیگر صحت کے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔

یہ تحقیق اطالوی سائنسدانوں نے کی، جو معروف سائنسی جریدے نیوٹریئنٹس (Nutrients) میں شائع ہوئی۔ تحقیق میں چکن کے استعمال سے متعلق کئی اہم نکات پیش کیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متوازن اور اعتدال کے ساتھ استعمال ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔

ایلون مسک نے ایران میں مفت اسٹار لنک انٹرنیٹ فراہم کر دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا اپنانا ضروری ہے اور کسی ایک غذا پر حد سے زیادہ انحصار کرنے کے بجائے مختلف غذاؤں کو مناسب مقدار میں خوراک کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: چکن کو

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ