پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں تاریخ ساز پیش رفت، عالمی شراکت داری کا روشن باب
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی شفافیت اور قانونی نظام کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی گئیں۔
ان اداروں کا مقصد کرپٹو مارکیٹ کی ریگولیشن صارفین کو تحفظ اور ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ پاکستان میں اہم ایکسچینجز کے لیے عبوری لائسنس، مائننگ، ٹوکنائزیشن اور فنٹیک کے پائلٹ پروجیکٹس شروع کیے گئے۔
وزیراعظم پاکستان کی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد سے ملاقات ہوئی جس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تعاون اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ ملاقات میں امریکی وفد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف، اعلیٰ عسکری قیادت اور اہم حکومتی نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان کا وژن شہریوں کے لیے بہتر روابط، آسان رسائی اور شفاف فروغ دینے پر مبنی ہے۔ ورلڈ لبرٹی فنانشل نے پاکستان میں محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی نظام پر تعاون میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
اس تعاون سے عالمی مالیاتی تبادلے اور زرمبادلہ کی ادائیگیوں میں جدت، ڈیجیٹل فنانس میں نئے افق روشن ہوں گے جبکہ زچری وِٹکوف نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کو سراہا اور واضح کیا کہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔
گذشتہ سال ورلڈ لبرٹی فنانشل نے پاکستان کرپٹو کونسل کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ پربھی دستخط کیے۔ لیٹر آف انٹینٹ کا مقصد بلاک چین، اسٹیبل کوائنز اور دیگر ڈیجیٹل فنانس پر تعاون اور تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ یہ اہم ملاقات پاکستان کے ابھرتے ہوئے انقلابی ڈیجیٹل اثاثہ جات کے فریم ورک پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔