پاک افغان بارڈر کی بندش سے کینو سستے، شہری خوش، باغبان پریشان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ سرحدی گزر گاہوں کی بندش کے باعث برآمد نہ ہونے پر آلو کے بعد کینو بھی سستے ہوگئے ہیں، جس سے شہری خوش جبکہ کاشت کار مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی رہی ہے، افغان پیداوار کی بڑی منڈی پاکستان جبکہ پاکستانی اشیاء کی منڈی افغانستان سمجھی جاتی ہے، پاکستان میں کئی ماہ سے سرحدیں بند ہونے سے سب سے زیادہ زرعی شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔
کسان اتحاد پاکستان کے چیئرمین خالد باٹھ نے بتایا کہ پہلے آلو کی برآمد نہ ہونے پر کاشت کاروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، اب کینو منڈیوں میں رل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حکومت پنجاب نے کاشت کاروں کو برآمدات کی اجازت دینے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن کاشت کاروں کے لیے اپنی فصلیں برآمد کرنا ممکن نہیں بلکہ حکومت بھارت اور افغانستان کی متبادل مارکیٹوں تک رسائی ممکن بنائے، اگر فوری طور پر دوسرے ممالک میں برآمدات شروع نہ ہوئیں تو زراعت تباہ ہوجائے گی۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ زرعی اشیاء کی بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈونیشیا اور فلپائن تک رسائی کو ممکن بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
محکمہ زراعت کے مطابق رواں سیزن آلو کی پیداوار ایک لاکھ 20 ہزار ٹن جبکہ کینو کی پیداوار 40 لاکھ ٹن ہونے کا امکان ہے، رواں سیزن میں پہلے 10 دن میں صرف چھ ہزار ٹن کینو سری لنکا اور فلپائن برآمد کیے جا سکے ہیں۔
اس صورت حال کے پیش نظر مارکیٹ میں آلو اور کینو سستے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جس سے عام شہری خوش ہیں، کینو ان دنوں دو سو روپے کلو تک پہنچ جاتا ہے لیکن اس بار سو روپے فی کلو سے بھی کم میں فروخت ہو رہا ہے۔
پنجاب کینو کی کُل ملکی پیداوار کا 95 فیصد پیدا کرتا ہے جبکہ آلو کی بھی زیادہ کاشت پنجاب میں ہی ہوتی ہے، مقامی مارکیٹ کی ضرورت کے علاوہ باقی کینو اور آلو ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔