منی ایپولس: ICE اہل کار کی فائرنگ سے شہری زخمی، مظاہرے جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
منی ایپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنسی (ICE) کے اہل کار نے ایک شہری کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔
واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند روز قبل ICE اہل کار کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھی، جس کے بعد شہر میں مظاہرے اور غم و غصے کا ماحول پیدا ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ اس وقت ہوئی جب اہل کار نے مشتبہ شخص کو روکنے کی کوشش کی۔ زخمی شخص کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے بھی ICE اہل کار کی فائرنگ سے منی سوٹا میں تین بچوں کی ماں ہلاک ہو گئی تھی، جس کے بعد شہریوں نے مختلف شہروں میں احتجاج شروع کر دیا تھا۔ مظاہرین وفاقی امیگریشن حکام کے خلاف شدید غصہ ظاہر کر رہے ہیں اور ICE اہل کاروں کے شہر سے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
شہر میں احتجاج کے دوران ہڑتال کی کال بھی دی گئی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن اور مقامی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ICE کے اقدامات سے کمیونٹی میں خوف و بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ICE اہل کار
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔