عدالت نے اسلام آباد میں سی ڈی اے کو درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کو درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے۔
عدالت نے سی ڈی اے سے درختوں کی کٹائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے محمد نوید احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے مدثر لطیف عباسی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل درخواستگزار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی حدود میں قواعد و ضوابط کے خلاف درختوں کی کٹائی کا عمل جاری ہے۔ درختوں کی کٹائی سے ماحولیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہے جو خطرناک ہے۔
عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کرلیا اور استفسار کیا کہ آپ کیوں درخت کاٹ رہے ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک سی ڈی اے کو درختوں کی کٹائی سے روک دیا۔
عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر پیراوائز جواب اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت2 فروری تک کیلئے ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درختوں کی کٹائی سے عدالت نے سی ڈی اے
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں