رحیم یار خان میں منفرد طبی کیس، 5 سالہ بچے کے سینے سے ’بغیر سر والا بچہ‘ نکال لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
رحیم یار خان میں منفرد طبی کیس، 5 سالہ بچے کے سینے سے ’بغیر سر والا بچہ‘ نکال لیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
رحیم یار خان میں بچے کے اندر ایک اور بچہ ہونے کا نایاب کیس سامنے آگیا۔
شیخ زید اسپتال کے ترجمان نے بتایا کہ 5 سالہ بچےکے سینےسے نامکمل نومولود کو نکال لیاگیا ہے۔
سرجری کرنیوالے ڈاکٹر اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
یہ سرجری سرانجام دینے والے تھوراسک سرجن ڈاکٹر سلطان محمود اویسی نے کہا کہ ٹیم نے نازک آپریشن کامیابی سے مکمل کیا، نکالا گیا نومولود قبل از وقت تھا جس کی جان نہ بچ سکی۔
اسپتال ترجمان کے مطابق آپریشن کے بعد 5 سالہ بچےکی حالت تسلی بخش ہے اور مریض کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر سلطان کا کہنا ہےکہ آپریشن کے ذریعے نکالا گیا ’فیٹس‘ دل کی مرکزی شریان کے پاس موجود تھا، ایسے کیسز میں زیادہ تر بچہ نما یہ چیز پیٹ میں پائی جاتی ہے لیکن یہ کیس اس لیے بھی منفرد تھا کہ اس میں بچہ سینے میں موجود تھا، بچے کے کئی اعضا تشکیل پا چکے تھے لیکن پانچ سال تک اس کی تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔
دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ 5 سال قبل جب بچہ 18 دن کا تھا تو تب سے اسے سانس لینے میں دشواری، سینے میں انفیکشن اور کھانسی ہوتی تھی اور اکثر بخار بھی رہتا تھا، بچے کو متعدد ڈاکٹروں کے پاس لے جایا گیا مگر اب جب بچے کا سی ٹی اسکین کروایا گیا تو تشخیص ہوئی کہ یہ ’فیٹس ان فیٹو‘ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 5 سالہ بچے کے اندر سے جو بچہ نکالا گیا اس کے کچھ اعضا تشکیل پا چکے تھے، اس کی ریڑھ کی ہڈی، بال دانت اور دیگر اعضا بھی تھے، سوائے سر کے ساری چیزیں موجود تھیں، اس کا وزن تقریباً ایک کلو تھا۔
’فیٹس ان فیٹو‘ کیا ہے؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ندیم اختر ( پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا پمز اسپتال میں پیڈیاٹرک سرجری کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) نے بتایا کہ ’ایک بچہ نما چیز پیٹ میں پلتی ہے لیکن اکثر یہ ایک ٹیومر سرطان یا رسولی ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ جسم میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو، یہ جس مقام پر ہوتا ہے اسی جگہ پر رہتا ہے، زیادہ تر پیٹ کے نچلے حصے میں۔
پروفیسر ندیم اختر کے مطابق اس کیفیت کا نام ’فیٹس ان فیٹو‘ اس لیے رکھا گیا کیوں کہ ’فیٹس میں تین تہیں ہوتی ہیں جو اس ٹیومر میں بھی ہوتی ہیں۔‘
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ کے مستعفی جج جسٹس منصور علی شاہ نے دوبارہ وکالت شروع کر دی سپریم کورٹ کے مستعفی جج جسٹس منصور علی شاہ نے دوبارہ وکالت شروع کر دی ایران میں پھنسے راولپنڈی کے دو طالبعلم، ایمبیسی سے انٹرنیٹ کی سہولت کی منتظر ہوشمندی کا تقاضا ہے بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو، سلمان اکرم راجا پاکستان کسٹمز کی بڑی پیش رفت: شپنگ چارجز سرکاری ریٹس کے مطابق نافذ ایران میں پھنسے پاکستانی مشکلات کا شکار، وزیراعظم سے مدد کی اپیل امریکا نے وینزویلا کا تیل باضابطہ طور پر بیچنا شروع کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔