خوشگوار سفر، محفوظ زندگی: ڈی پی او مری نے برفباری کے دوران دم گھٹنے کے خطرے سے بچنے کے لیے ‘لائف سیونگ’ الرٹ جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
خوشگوار سفر، محفوظ زندگی: ڈی پی او مری نے برفباری کے دوران دم گھٹنے کے خطرے سے بچنے کے لیے ‘لائف سیونگ’ الرٹ جاری کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 January, 2026 سب نیوز
مری/راولپنڈی:(آئی پی ایس)
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹرمحمد رضا تنویر سپرا نے21 جنوری تک مری میں متوقع شدید برفباری کے پیشِ نظر ‘مشن سیف ونٹر’ کو حتمی شکل دیتے ہوئے پورے شہر کے گرد ایک ‘جدید تکنیکی حصار’ قائم کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات، این ڈی ایم اے پی ڈی ایم،پی ڈی ایم اے کی جانب سے 17 سے 21 جنوری کے دوران برفانی طوفان اور شدید سرد لہر کی پیش گوئی کے بعد، مری پولیس نے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فیلڈ فورس اور جدید ترین نگرانی کے نظام کو مربوط کر دیا ہے۔
موسمیاتی تجزیوں کے مطابق 19 اور 20 جنوری کو برفباری کی شدت اپنے عروج پر ہوگی، جس سے سڑکوں پر شدید پھسلن اور حدِ نگاہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ڈی پی او مری نے مری کے تمام داخلی راستوں پر کڑی نگرانی کا حکم دیا ہے اور برف ہٹانے والی مشینری کو اہم شاہراہوں پر الرٹ کر دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد رضا تنویر نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تفریح کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے تحفظ کو بھی مقدم رکھیں اور ذمہ دارانہ سیاحت کا ثبوت دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ برفباری میں گاڑی کھڑی کرتے وقت یا دورانِ سفر ہیٹر استعمال کرتے ہوئے شیشہ تھوڑا سا کھلا رکھیں تاکہ آکسیجن کی کمی نہ ہو اور زہریلی گیس (کاربن مونو آکسائیڈ) کے باعث کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ گاڑی میں سنو چین (لوہے کی زنجیروں) کا ہونا لازمی ہے، اس کے بغیر برفانی سڑکوں پر سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی پی او مری کا کہنا تھا کہ سفر پر نکلنے سے قبل گاڑی کی ٹنکی فل رکھیں اور اپنے ساتھ وافر مقدار میں گرم کپڑے اور خشک راشن رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ‘حفاظتی حصار’کی نگرانی سیف سٹی کے 181 کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ ڈی پی او مری نے پولیس اہلکاروں کے رویے اور ٹریفک مسائل کی شکایات کے لیے ‘ڈی پی او ڈائریکٹ’ واٹس ایپ سروس (03111177553) کو بھی چوبیس گھنٹے فعال رکھا ہے۔ کسی بھی ناگہانی آفت یا ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے سیاحوں کو 15 پر کال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ “ہمارا مقصد مری آنے والے ہر سیاح کی سلامتی ہے، مگر اس کے لیے شہریوں کا تعاون اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد گیس دھماکہ، وفاقی وزیر سردار یوسف کا متاثرین کے لئے امداد کا اعلان اسلام آباد گیس دھماکہ، وفاقی وزیر سردار یوسف کا متاثرین کے لئے امداد کا اعلان پاکستان-یو اے ای تعلقات: مصباح کھر کی سفیر سے ملاقات، سرمایہ کاری اور تجارت پر زور لاہور ہائیکورٹ کے 13 ایڈیشنل ججز کیلئے جوڈیشل کمیشن اجلاس شروع ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں: امریکی میڈیا کا انتباہ پاکستان نے یمن بحران کے حل کیلئے فوری اور متحدہ عالمی کوششیں ناگزیر قرار دیدیں رحیم یار خان میں منفرد طبی کیس، 5 سالہ بچے کے سینے سے ’بغیر سر والا بچہ‘ نکال لیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈی پی او مری نے کے لیے کر دیا دیا ہے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔