امریکہ نے پوری تیاری کرلی آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران پر حملہ ہوگا؛مشاہد حسین سید
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے پوری تیاری کرلی ہے آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران پر حملہ ہوگا۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کوئی بھی بڑا ایونٹ ہوسکتا ہے، تیاری مکمل ہے۔ مشاہدحسین سید کا کہنا تھا کہ امریکی حملے کا جواب دینے کے لیے ایرانی بھی تیار ہیں، امریکا کو کچھ خوف ہے کہ ایران سے کس طرح کا ردعمل آسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ امریکا کو ہر ملک کہہ رہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں، امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
لاہور میں 187 ٹریفک حادثات؛ 217 افراد زخمی
ماہر بین الاقوامی امور کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی آبادی بڑی اور طاقتورہے، اس پر حملہ کیا تو نتائج سنگین ہونگے، ان کی امریکا فرسٹ سے پالیسی بدل کر اسرائیل فرسٹ ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر امریکا کے فوری حملے کا خطرہ کافی حد تک بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام اشارے ظاہرکرتے ہیں کہ عنقریب ایران پر حملہ ہو سکتا ہے، اچانک حملہ امریکی فوج کی حکمت عملی کا حصہ ہوگا۔ خبررساں ادارےکےمطابق ایران نےاپنی فضائی حدود تمام پروازوں کیلئے بند کردی ہے، برطانیہ نے عارضی طور پر تہران میں سفارتخانہ بند کردیا، مغربی ممالک کی اپنے شہریوں کو ایران سے فوری نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی ؛ خلاف ورزی پر قید اور جرمانے ہوں گے ؛ محکمہ داخلہ پنجاب
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایران پر حملہ کہ ایران
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔