مغربی میڈیا نے ایران میں بیرونی حمایت یافتہ مسلح فسادات کو کیسے ’’پرامن احتجاج‘‘ بنا کر پیش کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایرانی حکام کے مطابق بدامنی کے دوران 100 سے زائد پولیس اور سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اس کے برعکس مغربی میڈیا نے زیادہ تر اُن دو واشنگٹن میں قائم این جی اوز کے اعداد و شمار استعمال کیے جنہیں این ای ڈی کی مالی معاونت حاصل ہے۔ ان این جی اوز میں عبدالرحمن برومند سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس اِن ایران شامل ہیں۔ خصوصی رپورٹ
ایران میں معاشی صورتحال پر ہونے والے پرامن احتجاج کو جیسے جیسے بیرونی حمایت سے فسادات میں تبدیل کر دیا گیا، مغربی میڈیا کی کوریج ایک ایسے ڈگر پر چل پڑی جہاں مسلح فسادات اور پرامن شہریوں، غیر مسلح فورسز کے قتل کو بھی "پرامن احتجاج" کا نام دینے کی بھرپور کوششیں کی جاتی رہیں۔ مغربی میڈیا نے وسیع پیمانے پر ہونے والے تشدد کو کم اہمیت دی جبکہ اپنے کوریج میں زیادہ تر ان اعداد و شمار پر انحصار کیا گیا جو امریکی حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والی تنظیموں نے فراہم کیے۔ (یہ صورتحال صرف مغربی میڈیا تک ہی نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا میں بھی دیکھنے میں آئی) ناقدین کے مطابق یہی بیانیہ واشنگٹن میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے مطالبات کو ہوا دینے کا سبب بنا۔ ایران میں بیرونی سپانسرڈ فسادات کے پورے دورانئے میں مغربی میڈیا کا گمراہ کن اور یکطرفہ کردار تو سب پر عیاں ہو چکا تاہم اب اس گمراہ کن کردار کے بارے میں بعض امریکی صحافی آواز اٹھا رہے ہیں اور مغربی میڈیا کے یکطرفہ کردار کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
دی گری زون (The Grayzone) کے ایڈیٹر انچیف میکس بلومنتهال (Max Blumenthal) اور ایڈیٹر وائٹ ریڈ (Wyatt Reed) کی تحقیق کے مطابق بڑے مغربی ذرائع ابلاغ نے ایسے وڈیو شواہد کو نظر انداز کیا جن میں شدید تشدد واضح طور پر دکھائی دیتا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے انہی گروہوں کو "زیادہ تر پُرامن" مظاہرین قرار دیا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور دیگر ذرائع کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں غیر مسلح سیکیورٹی اہلکاروں کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کیے جانے، مساجد پر حملوں، بلدیاتی عمارتوں، بازاروں اور فائر اسٹیشنوں کو نذرِ آتش کرنے اور مسلح افراد کو گنجان شہری مراکز میں فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپ میں کوریج تقریباً مکمل طور پر ایرانی حکام پر مبینہ زیادتیوں کے الزامات پر مرکوز رہی، جبکہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار اُن این جی اوز سے لیے گئے جو ایرانی تارکینِ وطن نے قائم کیں اور جنہیں امریکی ادارے نیشنل انڈومنٹ فار ڈیموکریسی (NED) کی مالی معاونت حاصل ہے، یہ ادارہ طویل عرصے سے امریکی حکومت کی "رجیم چینج" پالیسیوں سے وابستہ رہا ہے۔
این ای ڈی سے منسلک تنظیموں کا کردار
دی گرے زون کی رپورٹ کے مطابق این ای ڈی نے واضح طور پر 2023ء میں ایران میں ہونے والے "زن، زندگی، آزادی" مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جن میں شدید تشدد بھی شامل تھا، مگر اس پر مغربی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتہائی محدود توجہ دی۔ آج این ای ڈی اُن کئی بیرونی عناصر میں شامل ہے جن پر ایران میں عدم استحکام کو ہوا دینے کا الزام ہے۔ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے بھی اپنے سرکاری فارسی زبان کے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ایرانی عوام سے حکومت گرانے کی کوششیں تیز کرنے کی کھلی اپیل کی۔ موساد کے پیغام میں کہا گیا: "مل کر سڑکوں پر نکلیں، وقت آ گیا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، صرف دور سے یا زبانی نہیں، بلکہ میدان میں بھی۔"
معاشی احتجاج سے پُرتشدد فسادات تک
ابتدائی طور پر احتجاج جنوری 2026ء کے اوائل میں اُس وقت شروع ہوا جب تاجروں نے مغربی پابندیوں کے باعث مہنگائی کے خلاف مظاہرے کیے۔ ایرانی حکام نے تاجروں کے احتجاجات کو پولیس کی نگرانی میں جاری رہنے دیا۔ دی گرے زون کے مطابق یہ مظاہرے جلد ہی ختم ہو گئے کیونکہ مسلح فسادیوں نے بیرونی حکومتوں اور رضا پہلوی جیسے افراد کی ترغیب پر تشدد بڑھایا، جنہوں نے سرکاری ملازمین اور میڈیا کو "جائز اہداف" قرار دیا۔ 9 جنوری کو مشہد میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بلدیاتی حکام کے مطابق فسادیوں نے فائر اسٹیشنوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں فائر فائٹرز جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، بسوں پر حملے کیے گئے، میٹرو اسٹیشنوں کو نقصان پہنچایا گیا اور شہری عملے کو نشانہ بنایا گیا، جس سے 18 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ کرمانشاہ میں مسلح گروہوں کو پولیس پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے فلمایا گیا، جبکہ تین سالہ بچی میلینا اسدی فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئی۔
متعدد صوبوں میں ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں غیر مسلح محافظوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کیا گیا۔ 10 جنوری کو وسطی ایران میں ایک عوامی بس کو نذرِ آتش کیے جانے کی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آئی۔ تہران میں مسلح افراد نے تاریخی ابوذر مسجد پر حملہ کیا اور اس کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی، جبکہ سرابلہ اور خوزستان میں مذہبی مقامات کے اندر قرآن پاک جلانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ کرج میں بلدیاتی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی، رشت میں مرکزی مارکیٹ تباہ کر دی گئی، اور بروجن میں قدیم مخطوطات پر مشتمل ایک تاریخی کتب خانہ لوٹ مار اور آگ کی نذر ہو گیا۔ بعد ازاں ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سفیروں کو طلب کر کے انہیں تشدد کی فوٹیج دکھائی، تاہم ان واقعات پر مغربی حکومتوں یا بڑے میڈیا اداروں کی جانب سے نمایاں ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
این ای ڈی سے فنڈ لینے والے گروہوں کے دعوے
ایرانی حکام کے مطابق بدامنی کے دوران 100 سے زائد پولیس اور سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ اس کے برعکس مغربی میڈیا نے زیادہ تر اُن دو واشنگٹن میں قائم این جی اوز کے اعداد و شمار استعمال کیے جنہیں این ای ڈی کی مالی معاونت حاصل ہے: ان این جی اوز میں عبدالرحمن برومند سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس اِن ایران شامل ہیں۔ 2024ء میں این ای ڈی کے ایک بیان میں برومند سینٹر کو باضابطہ "شراکت دار" تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس اِن ایران نے 2021ء میں تسلیم کیا تھا کہ ایک دہائی قبل تہران کی جانب سے سی آئی اے سے روابط کے الزامات کے بعد اسے این ای ڈی کی فنڈنگ ملنا شروع ہوئی۔ این ای ڈی کی بنیاد ریگن دور میں رکھی گئی تھی تاکہ وہ بیرونی سیاسی مداخلتیں جاری رکھی جا سکیں جو اس سے پہلے خفیہ طور پر امریکی انٹیلی جنس انجام دیتی تھی۔ اس کے بانیوں میں شامل ایلن وائن اسٹین بعد میں اعتراف کر چکے ہیں کہ "آج ہم جو کچھ کرتے ہیں، اس کا بڑا حصہ 25 سال پہلے سی آئی اے خفیہ طور پر کرتی تھی۔"
اس کے باوجود واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز سمیت کئی اداروں نے برومند سینٹر کے اعداد و شمار اس کی فنڈنگ ظاہر کیے بغیر شائع کیے۔ تنظیم کے بورڈ میں معروف نیو کونزرویٹو مفکر فرانسس فوکویاما بھی شامل ہیں، جو پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سنچری کے دستخط کنندہ رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس اِن ایران کے اعداد و شمار تو اس سے بھی زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلے، جن کی 544 ہلاکتوں کی رپورٹ درجنوں امریکی اور اسرائیلی میڈیا اداروں کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس سے منسلک کمپنی اسٹریٹفار (Stratfor) نے بھی نقل کی، جس نے بدامنی کو امریکی یا اسرائیلی مداخلت کے لیے "موقع" قرار دیا۔
مبالغہ آمیز دعوے اور فوجی کارروائی کا دباؤ
جب اموات کے آزادانہ تصدیق شدہ اعداد مشکل تھے، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور سیاسی کارکنوں نے کہیں زیادہ اموات کے دعوے کیے۔ ٹرمپ کی حلیف لارا لومر نے ایک نامعلوم انٹیلیجنس ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 6,000 سے زیادہ مظاہرین مارے گئے۔ اسی طرح پیش گوئیوں کی ویب سائٹ پولی مارکیٹ (Polymarket) نے بغیر کسی ثبوت کے کہا کہ 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایران کئی بڑے شہروں پر "تقریباً کنٹرول کھو چکا ہے"۔ پولی مارکیٹ کو سرمایہ کار پیٹر تھیل کی حمایت حاصل ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اس کے مشیر ہیں۔ یہ پلیٹ فارم اس سے قبل بھی متنازعہ دعوؤں پر تنقید کا نشانہ بن چکا ہے۔ دی گرے زون کے مطابق ایسے دعوے امریکی صدر کو فوجی کشیدگی بڑھانے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ خود اسٹریٹفار نے بھی تسلیم کیا کہ اگرچہ بدامنی مداخلت کا جواز فراہم کر سکتی ہے، مگر نئے حملے ممکنہ طور پر ایرانی قوم پرستی کو مزید مضبوط کریں گے جیسا کہ 2025ء میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ہوا تھا۔
احتجاج میں کمی اور ٹرمپ کی دھمکیاں
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مغربی رہنماؤں نے کھل کر احتجاجات کی حمایت کی۔ ٹرمپ نے کہا: "اگر ایران گولی چلائے اور پُرامن مظاہرین کو قتل کرے، تو امریکا ان کی مدد کو آئے گا، ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔" بعد ازاں انہوں نے خبردار کیا: "گولی چلانا شروع نہ کرنا، کیونکہ پھر ہم بھی چلائیں گے۔" اور ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اب سائبر آپریشنز سے لے کر فضائی حملوں تک مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم اسی دوران احتجاج کی شدت میں کمی آئی ہے اور کئی شہروں میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ کشیدگی میں کمی کے ساتھ تہران، مشہد اور دیگر شہروں میں بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جن میں فسادات کی مذمت، بیرونی مداخلت کی مخالفت اور حکومت کی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ ناقدین کے مطابق ان مظاہروں کو مغربی میڈیا میں تقریباً نظر انداز کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے اعداد و شمار ا مغربی میڈیا نے کی مالی معاونت ہیومن رائٹس ا ایرانی حکام جی اوز ایران میں زیادہ تر کی حمایت کے مطابق قرار دیا پر ایران رہے ہیں حاصل ہے
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔