پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار، خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی، جس کے باعث بسنت منانے کے خواہشمند افراد کی تیاریاں بے نتیجہ رہ گئیں۔
صوبائی محکمہ داخلہ نے پتنگ بازی پر پابندی کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی، پنجاب میں بسنت صرف 6 سے 8 فروری تک محدود اور مخصوص شرائط کے تحت منائی جا سکے گی، اس کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی غیر قانونی ہو گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ تاریخوں سے پہلے یا بعد میں پتنگ اڑانا قانوناً جرم تصور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پتنگ سازی اور فروخت پر بھی مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی پر 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ پتنگ یا ڈور بنانے یا فروخت کرنے پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں قاتل ڈور کے باعث متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جس کے پیش نظر یہ سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ پابندی کا مقصد شہریوں کو جان لیوا حادثات، گلے پر ڈور پھرنے اور چھتوں سے گرنے جیسے واقعات سے محفوظ رکھنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پتنگ بازی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔