ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کا پہلا ترجیحی پلیٹ فارم قرار
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ٹک ٹاک (TikTok)نے فیفا (FIFA)کے ساتھ ایک عالمی معاہدے کے تحت شراکت داری قائم کرلی ہے جس کے نتیجے میں ٹک ٹاک فیفا کا پہلاباقاعدہ ترجیحی پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ اس شراکت کے ذریعے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے باقاعدہ کوریج میں توسیع،پس پرد ہ سرگرمیوں کی جھلکیاں، اور شائقین کے لیے انٹرایکٹو تجربات فراہم کیے جائیں گے۔
سال 2026 کے اختتام تک جاری رہنے والی یہ شراکت داری اس بات کی عکاس ہے کہ فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ کو ڈیجیٹل طور پر دیکھنے اور سمجھنے کا انداز ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران ٹک ٹاک میچ کی براہِ راست نشریات سے بڑھ کر شائقین اور کنینٹ کری ایٹرز کو ٹورنامنٹ سے جڑے رہنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
اس تعاون کے تحت ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کی مزید جامع کوریج فراہم کرے گا، جس میں اصل اور تخلیقی کنٹنٹ میں اضافہ شامل ہوگا، جبکہ یہ پلیٹ فارم پورے ٹورنامنٹ کے دوران شائقین اور کری ایٹرز کے لیے مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا ، جہاں فٹ بال سے متعلق انٹرایکٹو اور کمیونٹی پر مبنی تجربات فراہم کیے جائیں گے ۔
یہ شراکت فیفا ویمنز ورلڈ کپ 2023 کے دوران بھی ٹک ٹاک اور فیفا کے درمیان ہونے والے کامیاب تعاون کو مزید آگے بڑھاتی ہے، جس نے عالمی سطح پر کئی ارب ویوز حاصل کیے اور کھیلوں کے کنٹنٹ کے استعمال میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔
ترجیحی پلیٹ فارم کے طور پریہ شراکت ٹاک کے جامع اور پُر کشش فیفا ورلڈ کپ 2026 ہب (hub)کے گرد مرکوز ہوگی، جو ٹک ٹاک گیم پلان کی طاقت سے چلنے والا ایک متحرک مرکز ہوگا۔ یہ ہب شائقین کو ایسا دلچسپ کنٹنٹ دریافت کرنے کا موقع دے گا جو 48 ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں جان ڈال دے گا اور ساتھ ہی میچ کے ٹکٹوں کی فروخت اور دیکھنے سے متعلق معلومات بھی فراہم کرے گا، جبکہ کسٹم اسٹیکرز، فلٹرز اور گیمی فیکیشن (gamification) فیچرز جیسے شمولیتی ترغیبات بھی پیش کی جائیں گی۔
اس شراکت کے بارے میں فیفا کے سیکریٹری جنرل ،میٹیاس گراف اسٹروم (Mattias Grafström) کا کہنا ہے،”فیفا کا مقصد ورلڈ کپ 2026کے جوش و خروش کو زیادہ سے زیادہ شائقین تک پہنچاناہے، اور اس مقصد کے لیے ہم ٹک ٹاک کو ٹورنامنٹ کا پہلا ترجیحی پلیٹ فارم بنانے سے بہتر کوئی طریقہ نہیں سمجھتے۔ یہ تعاون دنیا بھر کے مزید شائقین کو بے مثال انداز میں فیفا ورلڈ کپ سے جوڑے گا۔“
ٹک ٹاک کے گلوبل ہیڈ آف کنٹینٹ، جیمز اسٹافورڈ (James Stafford) نے کہا،”گزشتہ چند برسوں کے دوران، ٹک ٹاک کے ذریعے فٹ بال نے عالمی سطح پر غیر معمولی تیزی سے ترقی کی ہے اور فیفا کے پہلے ترجیحی پلیٹ فارم کے طور پر ہم اس بات کے لیے پرجوش ہیں کہ شائقین ورلڈ کپ 2026 کا 90 منٹ سے بڑھ کر، خصوصی کنٹنٹ اور کری ایٹرز تک بے مثال رسائی کے ساتھ تجربہ کریں۔ ٹک ٹاک گیم پلان ہمارے اسپورٹس پارٹنرز کے لیے مداحی کو قابلِ پیمائش کاروباری نتائج میں تبدیل کرتا ہے۔“
ٹک ٹاک اور فیفا، پہلی مرتبہ، ایک منظم عالمی کری ایٹرز پروگرام بھی متعارف کرائیں گے۔ منتخب کردہ کری ایٹرزکو پس پردہ خصوصی لمحات تک رسائی دی جائے گی، جن میں پریس کانفرنسیں اور ٹریننگ سیشن شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، کری ایٹرز کے ایک وسیع گروپ کو فیفا کی آرکائیوز میں محفوظ فوٹیج استعمال کرتے ہوئے مشترکہ کنٹنٹ تخلیق کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے اور اس طرح شائقین کو ورلڈ کپ کے تجربے پر منفرد زاویے فراہم کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فراہم کیے جائیں گے ترجیحی پلیٹ فارم فیفا ورلڈ کپ 2026 کری ایٹرز ٹک ٹاک کے لیے کرے گا
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔