data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماسکو: روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، ماسکو نے جاسوسی کے الزام میں ایک برطانوی سفارت کار کو ملک بدر کر دیا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سفارتی مشنز کے کام کے بنیادی اصول متاثر ہو رہے ہیں اور لندن اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی سفارت کار گیرتھ سیموئیل ڈیوس، جو ماسکو میں برطانوی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے طور پر تعینات تھے، اور برطانوی خفیہ ادارے کے لیے کام کر رہے تھے، انہیں دو ہفتوں کے اندر روس چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

اس معاملے پر روسی وزارت خارجہ نے روس میں تعینات برطانوی ناظم الامور ڈینیئے دھولاکیا کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جس میں کہا گیا کہ ماسکو روس میں غیر اعلانیہ برطانوی خفیہ اہلکاروں کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لندن نے صورت حال کو مزید بڑھایا تو روس اس کا سخت جواب دے گا۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے باہر مظاہرین نے برطانوی سفارتی گاڑی کے سامنے برطانیہ مخالف نعرے بھی لگائے۔

دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے روسی الزامات کو ’’بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ روس میں برطانوی سفارت کاروں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ برطانوی بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات سفارتی مشنز کے لیے ضروری بنیادی ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں اور لندن اپنے ممکنہ ردعمل پر غور کر رہا ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برطانوی سفارت

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی