حیدرآباد، سندھ آبادگار اتحاد کی پیاز پر عائد ٹیکس پرتشویش
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سندھ آبادگار اتحاد کا اجلاس نواب زبیر احمد تالپور کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سبزیوں کی کم قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت اس طرف توجہ دے کیونکہ سبزیوں پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں اور مناسب قیمتیں نہیں دی جارہیں۔ اجلاس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پیاز کی برآمد پر بڑے اضافی ٹیکس عائد کیے گئے ہیں اور پیاز کی برآمد پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اجلاس میں شوگر ملز کی جانب سے گنے کی پیداوار میں کمی پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ شوگر ملز نے گنے کی پیداوار میں کمی کی ہے جس سے نقصان ہو رہا ہے۔ اجلاس میں ضلع کشمور کی مومل آباد برانچ کو بند کرنے کے عمل کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ شاخ کو دستی طور پر باندھ کر فصلوں کو ڈبویا جا رہا ہے۔ برانچ کو دیے گئے اسلحہ کو فوری طور پر کھولا جائے۔ اجلاس میں انٹرنیشنل ریگولیٹر سے داغ موری کی 22 سڑکیں پختہ کرنے کے منصوبے میں کرپشن پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، جس کا محکمہ آبپاشی کو جواب دینا ہو گا۔ اجلاس میں سندھ میں جعلی بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس طرف توجہ دے رہی ہیں جس سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں اربوں روپے کی لاگت سے جن کولڈ سٹوریجز کا ذکر کیا ہے ان کی نشاندہی کی جائے۔ زمین پر کچھ بھی نہیں ہے۔رہنماؤں نے افغان بارڈر کی بندش کو زراعت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان بارڈر کی بندش سے کسانوں کو بھاری مالی اور معاشی نقصان ہوا ہے جس کی تلافی کون کرے گا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان افغانستان بارڈر کھول کر کسانوں کو نقصان سے بچائے۔ اجلاس میں پیاز اور کیلے کو متاثر کرنے والی بیماریوں پر تحقیق نہ کرنے پر سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ اربوں روپے کی لاگت سے بنائے گئے تحقیقاتی ادارے کیا کر رہے ہیں، اگر کیلے اور پیاز کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پر کوئی کام کیا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو سندھ میں کیلے اور سپاری کی پیداوار ختم ہو جائے گی۔ سندھ آبادگار اتحاد سوشل میڈیا سیکشن کی جانب سے تنظیم کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ سندھ آبادگار اتحاد نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے، مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور زراعت کو تباہی کی طرف دھکیلنے سے روکا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ا بادگار اتحاد کہا گیا کہ اجلاس میں ہوئے کہا کا اظہار کیا گیا رہا ہے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔