data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-08-16

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) دسمبر تک گیس کی فراہمی مؤثر انداز میں برقرار رکھے ہوئے تھی تاہم جنوری کے دوسرے ہفتے میں کراچی میں اچانک سردی کی شدید لہر اور بلوچستان میں غیر معمولی سردی کی لہر کے باعث صورتحال بدل گئی۔ اس کے پیش نظر انتظامیہ نے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے تاکہ گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی یقینی بنائی جا سکے، کیونکہ گھریلو صارفین ہمیشہ سے کمپنی کی اولین ترجیح رہے ہیں اور حکومت سے منظور شدہ لوڈ مینجمنٹ پلان میں بھی سرفہرست ہیں۔ انسانی جانوں کے تحفظ اور گھروں کو گرم رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر بلوچستان کو فراہم کی جانے والی گیس کی مقدار 80 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کر 180 ایم ایم سی ایف ڈی کردی گئی۔ یہ اضافی فراہمی کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی محدود کرنے اور کیپٹو پاور استعمال کرنے والی صنعتی یونٹس کی اتوار کے روز بندش کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ نظام کے استحکام کیلیے 90 ایم ایم ایس سی ایف ڈی آر ایل این جی کا بھی انتظام کیا گیا۔ تاہم چند گیس فیلڈز میں تکنیکی وجوہات کی بنا پر سپلائی میں کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی قلت پیدا ہو گئی۔ اس قلت کے باعث زیر زمین لائن پیک خطرناک حد تک کم ہو گیا اور نظام کے بیٹھ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلیے SSGC نے مزید ہنگامی اقدامات کیے، جن میں طے شدہ تاریخ سے پہلے کھاد کے شعبے کو گیس کی فراہمی بند کرنا اور سی این جی اسٹیشنز سمیت پورے صنعتی شعبے اور کیپٹو پاور پلانٹس کیلیے اتوار کے روز 24 گھنٹے کی گیس چھٹی نافذ کرنا شامل تھا۔ ایس ایس جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر امین راجپوت نے توانائی کے شعبے سے وابستہ دیگر اداروں کے سربراہان سے بھی رابطہ کیا، جن کے تعاون سے او جی ڈی سی ایل سے اضافی 3 ایم ایم سی ایف ڈی گیس حاصل کی جا سکی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے دستیاب نہ ہونے والی تمام 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس متعلقہ گیس فیلڈز سے دوبارہ نظام میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ SSGC کی اضافی کاوشوں اور مختلف انتظامات کے ذریعے مزید 6 سے 8 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا بندوبست بھی کیا گیا ہے، جس سے لائن پیک مستحکم ہو گیا ہے۔ اس کے واضح اثرات شہر بھر میں گیس کے دباؤ میں نمایاں بہتری کی صورت میں سامنے آئے ہیں، جہاں صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک بہتر پریشر رپورٹ ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ گیس فیلڈز میں سالانہ 8 سے 10 فیصد قدرتی کمی کے باعث SSGC کو اس وقت 655 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مل رہی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ مقدار 695 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔ گیس کی طلب کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں کیونکہ یہ درجہ حرارت کے ساتھ مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ ایس ایس جی سی صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان اوقات کے علاوہ پورا نظام دن بھر کھلا رکھا جاتا ہے اور کسی مخصوص پریشر پروفائل کے بغیر گیس کی فراہمی جاری رہتی ہے تاکہ فرنچائز ایریا میں تمام گھریلو صارفین کو قدرتی گیس کی مسلسل سپلائی ملتی رہے۔گیس کی فراہمی کی صورتحال کی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور فیلڈ ٹیمیں 24 گھنٹے متحرک ہیں تاکہ گھریلو صارفین کو کم پریشر کی کسی بھی شکایت کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ صارفین سے گزارش ہے کہ کسی بھی شکایت کی صورت میں SSGC کی ہیلپ لائن 1199 پر رابطہ کریں، یا کمپنی کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے، یا SSGC موبائل ایپ SSGC Customer Connect کے ذریعے اپنی شکایت درج کروائیں۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم ایم سی ایف ڈی گیس گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی کے ذریعے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف