data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260116-08-23

 

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) محکمہ اینٹی کرپشن (سندھ) کے اندرونی معاملات اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گئے جب 2 اعلیٰ افسران کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی ہاتھا پائی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔ واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پورے ہنگامے کی بنیاد اس وقت پڑی جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران شیخ کو محکمانہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ایک شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ نوٹس ملنے پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر مبینہ طور پر شدید برہمی کا شکار ہو گئے اور اپنے سینئر افسر کے دفتر پہنچ گئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عمران شیخ نے دفتر میں موجود دیگر افسران کو بھی دھمکیاں دیں اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی۔اس واقعے کے فوری بعد اینٹی کرپشن ساؤتھ میں تعینات ایک سب انسپکٹر کی مدعیت میں قانونی چارہ جوئی کی گئی ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران شیخ کے خلاف میٹھادر تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، سرکاری امور میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ میٹھادر پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسسٹنٹ ڈائریکٹر

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف