سیکورٹی فورسز کی بنوں اور کرم میں کارروائیاں، 13 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260116-01-9
بنوں/ کرم (مانیٹر نگ ڈ یسک )سیکورٹی فورسز نے 13 اور 14 جنوری کو خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور کرم میں 2 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 13 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کی
موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن کے دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 خوارج مارے گئے۔ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع کرم میں کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کسی بھی ممکنہ طور پر موجود بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کیلیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔