نبی کریم ﷺ کے معراج شریف کا واقعہ نہایت مشہور و معروف ہے، اسے علمائے اسلام نے نہایت تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی کا مفہوم ہے: ’’ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو، ایک رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا، جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، تاکہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک! اﷲ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
حق تعالیٰ نے فرمایا پیغمبر اسلامؐ خود تشریف نہیں لے گئے، بل کہ پاک ہے وہ ذات جورسول اکرمؐ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی اور وہاں سے آسمانوں، جنت و دوزخ کی سیر کرائی گئی، ملاقات باری تعالیٰ ہوئی، یہ سب قدرت الٰہی سے ہوا اور اﷲ وہی ہے جس نے جنت سے آدمؑ کو زمین پر بھیجا۔ اگر باری تعالیٰ جنت کی وادی سے حضرت آدمؑ و حوا کو زمین پر بھیج سکتے ہیں، تو کیا زمین سے وہ اپنے محبوب نبیؐ کو آسمانوں پر نہیں بلا سکتے ۔۔؟
بخاری و مسلم میں حضرت ابوذرؓ سے روایت کا مفہوم ہے کہ حضورؐ مکہ مکرمہ میں اپنے گھر میں آرام فرما تھے کہ مکان کی چھت کھلی اور جبریلؑ مع جماعت ِ ملائکہ کے تشریف لائے اور آپؐ کو نیند سے بیدار کیا، انھوں آپؐ کے سینۂ اطہر کو چاک کرکے قلبِ مبارک کو آبِ زم زم سے دھویا، اس کے بعد سونے کا ایک طشت ایمان و حکمت سے بھر کر لائے اور اسے اس میں ڈال کر بند کردیا، اور ساتھ لے کر چل پڑے، آپؐ کے لیے خاص سواری لائی گئی جس کا نام براق تھا، آپؐ براق پر سوار ہوئے اور سب سے پہلے مدینہ طیبہ (یثرب) میں دو رکعت نماز پڑھی، وادی سینا شجرۂ موسیٰ کے قریب دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر مدین میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر بیت اللحم میں جائے پیدائش عیسیٰؑ کے قریب دو رکعت نماز ادا فرمائی، وہاں سے روانہ ہوئے تو ایک بوڑھی نے آپؐ کو آواز دی، جبریلؑ نے اُس کی جانب التفات سے منع فرمایا، پھر آگے ایک بوڑھے نے آواز دی، تو بھی جبریلؑ نے ان کی جانب متوجہ ہونے سے منع فرمایا۔ بوڑھی عورت، دنیا تھی جس کی عمر ختم ہونے کو ہے اور بوڑھا شخص شیطان تھا۔
پھر آپؐ مسجد اقصیٰ میں پہنچے وہاںانبیائے کرامؑ موجود تھے، انھوں نے آپؐ کو سلام کیا، اس کے بعد اذان ہوئی، اقامت کہی گئی تو آپؐ نے امامت کرائی، بعض روایات میں آتا ہے کہ انبیائے کرام ؑ کے علاوہ سماوی فرشتوں نے بھی آپ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی، جب نماز ادا فرمالی گئی تو سماوی ملائکہ نے جبریل امین ؑ سے دریافت کیا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ حضرت جبریلؑ نے فرمایا: یہ محمد رسول اﷲ خاتم النبین ؐ ہیں۔ ملائکہ نے پوچھا: کہ کیا ان کے پاس بلانے کا پیغام بھیجا گیا تھا۔ جبریلؑ نے فرمایا: ہاں۔ فرشتوں نے کہا: کہ اﷲ تعالیٰ ان کو زندہ و سلامت رکھے، بڑے اچھے بھائی اور بڑے اچھے خلیفہ ہیں۔
(تلخیص از سیرۃ المصطفیٰؐ، جلد اول )
پھر جبریلؑ آپؐ کا ہاتھ پکڑ کر آسمان پر لے گئے۔ جب آپؐ آسمان پر پہنچے تو جبریلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ کھولو، اس نے کہا: کہ کون ؟ انھوں نے جواب دیا: جبریلؑ۔ اس نے پوچھا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ انھوں نے کہا: کہ ہاں میرے ساتھ محمد ﷺ ہیں۔ اس نے سوال کیا کیا: وہ بلائے گئے ہیں ؟ انھوں نے اثبات میں جواب دیا۔ جب آپؐ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے تو ایک شخص کو دیکھا جس کے دائیں اور بائیں بہت سی پرچھائیں تھیں جب وہ دائیں دیکھتے تو مسکراتے، اور جب بائیں دیکھتے تو روتے۔ آنحضرت ﷺ کو دیکھ کر انھوں نے ’’مرحبا یا نبی الصالح ، مرحبا یا ابن الصالح‘‘ کہا۔ آنحضرتؐ نے جبریل ؑ سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انھوں نے بتایا یہ آدمؑ تھے۔
اسی طرح دیگر انبیائے کرام ؑ سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہر نبی و رسول آپ ﷺ کا مرحبا یا اخی الصالح کہہ کر کا استقبال کرتا اور سیدنا ابراہیمؑ نے آپؐ کو ’’مرحبا یا نبی الصالح ‘‘ کے ساتھ ’’مرحبا یا ابن الصالح‘‘ بھی کہا۔ اس کے بعد حضرت جبریلؑ آپؐ کو لے کر اُس مقام پر پہنچے جہاں قلم قدرت کے چلنے کی آواز آرہی تھی۔ اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے آپؐ پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ اس عطیہ ٔ ربانی کو لے کر آپ ﷺ جب حضرت موسیٰؑ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دریافت فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے آپؐ کی امت پر کیا فرض کیا۔ آپؐ نے بتایا تو انھوں نے فرمایا کہ آپؐ دوبارہ بارگاہ ایزدی میں حاضری دیں اور کم کرائیں آپؐ کی امت اس کی متحمل نہیں ہوسکے گی۔
آپ ﷺ دربارِ خداوندی میں حاضر ہوئے تو ایک حصہ کم کردیا گیا، دوبارہ موسیٰؑ نے مشورہ دیا آپؐ پھر دوبارہ تشریف لے گئے اس طرح اپنی امت کی خاطر سرورِ کائنات ﷺ نے کئی چکر لگائے آخر حق تعالیٰ نے کم کرتے کرتے پانچ نمازیں فرض قرار دے دیں۔ ان پانچ نمازوں پر ثواب اب بھی پچاس نمازوں کا ہی ملے گا۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ ﷺ کو تین عطائے ربانی ملے، سورۃ البقرہ کی آخری آیات، جن میں ایمان و عقائد کی تکمیل و تشریح مذکور ہے اور دورِ مصائب کے خاتمے کی بشارات ہیں، حق جل مجدہ نے خاص مژدہ سنایا کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو کوئی شرک نہ کرے گا، اُس کی مغفرت کردی جائے گی، اور تیسرا عطیہ نمازوں کا جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس کے بعد سدرۃ المنتہیٰ کی سیر کرائی گئی، اس درخت پر شان ربانی کا پَرتو تھا، جس سے اُس درخت کی ہیت تبدیل ہوگئی اور پھر اُس میں حسن کی وہ کیفیت پیدا ہوئی جس کو کوئی زبان لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی، اُس میں انوارِ و تجلیات کے ایسے رنگ ظاہر ہوئے جو زبان و بیان سے باہر ہیں۔ اسی مقام پر حضرت جبریلؑ کو آپ ﷺ نے ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔
سیرۃ النبیؐ از شبلی نعمانی میں لکھا ہے: ’’پھر شاہد مستورِ ازل نے چہرے سے پردہ اٹھایا اور خلوت گاہ راز میں ناز و نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے، جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کی متحمل نہیں ہوسکتی‘‘
(بہ حوالہ: سیرۃ النبیؐ)
پھر جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی، پھر آپ ﷺ کی واپسی ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے فرمایا اس کے بعد اﷲ تعالی انھوں نے لے گئے
پڑھیں:
ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے ہوگیا، جہاں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے نے قومی پرچم کے ساتھ باوقار انداز میں مارچ پاسٹ کیا۔ پاکستان ایونٹ میں 6 مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا اور تمغوں کی سب سے زیادہ امید ارشد ندیم سے وابستہ ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز جمعرات کو ہائیڈرو ایرینا میں ایک شاندار، رنگا رنگ اور منفرد افتتاحی تقریب سے ہوا، جس نے اسکاٹ لینڈ کی بھرپور ثقافتی روایات کو جدید انداز میں پیش کرتے ہوئے گیمز کی تاریخ کی یادگار افتتاحی تقریبات میں اپنا مقام بنا لیا۔
یہ بھی پڑھیے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے لیے پرعزم
افتتاحی تقریب میں سینکڑوں کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین نے شرکت کی۔ موسیقی، دلکش روشنیوں، جدید بصری اثرات اور فنکارانہ پرفارمنسز نے پورے ایرینا کو جشن کے رنگوں میں رنگ دیا، جبکہ دولتِ مشترکہ کے مختلف رکن ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔
27 رکنی پاکستانی دستہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی ریکارڈ ہولڈر جیولن تھروور ارشد ندیم کی قیادت میں میدان میں داخل ہوا۔ مارچ پاسٹ کے دوران ارشد ندیم نے قومی پرچم تھام رکھا تھا۔ اس بار روایت سے ہٹ کر کھلاڑیوں کی پریڈ انگریزی حروفِ تہجی کے بجائے براعظموں کی بنیاد پر ترتیب دی گئی، جس کے تحت سب سے پہلے افریقی ممالک کے دستے اور اس کے بعد ایشیائی ممالک کے کھلاڑی میدان میں آئے۔
پاکستان کامن ویلتھ گیمز میں 6 مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا، جن میں ایتھلیٹکس، باکسنگ، جمناسٹکس، جوڈو، لان بولز اور تیراکی شامل ہیں۔
قومی دستے کی سب سے بڑی امید ارشد ندیم ہیں، جنہوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کے باعث ایک بار پھر پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے کی توقعات کو مضبوط کر دیا ہے۔
ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے ان کھیلوں میں دولتِ مشترکہ کے بہترین ایتھلیٹس مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے، جبکہ پاکستان خصوصاً ایتھلیٹکس اور باکسنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
23ویں کامن ویلتھ گیمز اسکاٹ لینڈ اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کھیل گلاسگو