پشاور، سیٹلائٹ اسپتال نحقی میں بد انتظامی و مالی بدعنوانی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
انکوائری کمیٹی میں اراکین صوبائی اسمبلی اعجاز احمد اور ریحانہ اسماعیل شامل تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپتال کے بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق آمدن اور خرچ کی گئی رقوم میں تضاد تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سیٹلائٹ اسپتال نحقی میں بد انتظامی و مالی بدعنوانی کے حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے احکامات پر انکوائری رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی میں اراکین صوبائی اسمبلی اعجاز احمد اور ریحانہ اسماعیل شامل تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپتال کے بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق آمدن اور خرچ کی گئی رقوم میں تضاد تھا۔ سابق ایم ایس نے جون 2024 سے جنوری 2025 کے دوران اسپتال آمدن کو بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرایا، نہ ہی خرچ کی گئی رقم کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ سابق ایم ایس کی جانب سے کمپنی کے نمائندہ سے 10 لاکھ روپے رشوت کے مطالبے پر انکار ہونے پر سولر کمپیوٹر کو ادائیگی روک دی گئی تھی۔ 32 کنال اراضی پر مشتمل اسپتال میں نصب جنریٹر بھی ناکارہ حالت میں پایا گیا۔
اسپتال کے احاطے میں موجود ڈیبایچ اور اسٹور کی ادویات اور لیبارٹری کے سازو سامان کھلے آسمان تلے رکھا گیا تھا۔ شام ورات کی شفٹ میں ڈاکٹروں اور لیبارٹری ٹیکنیشن کے نہ ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا جبکہ اسپتال کے گائنی وارڈ میں ماہانہ 900 مریض آتے ہیں، بلڈ بینک اور ایمبولینس نہ ہونے سے آپریشن کے ذریعے ڈیلیوری کی سہولت بھی موجود نہیں تھی۔ اسپتال میں موجود مین آپریشن تھیٹر میں گزشتہ 5 ماہ سے آپریشن نہیں کئے جارہے اورانتھیسزیا مشین خراب پائی گئی۔ اسپتال کی حدود میں موجود فارمیسی کو اسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے لیز پر دیا گیا تھا اور اسپتال انتظامیہ کے پاس مکمل ریکارڈ م بھی وجود نہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسپتال میں بلڈ بینک قائم کرنے، ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے اور فارمیسی کی لیز ختم کرنے سفارشات کی جاچکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسپتال کے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔