سرد موسم سوزش والی بیماریوں کو کیوں بڑھا دیتا ہے؟ ماہرین نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سردیوں کے موسم میں جسم میں مختلف تبدیلیاں آتی ہیں جو سوزش والی بیماریوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے درد کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور جوڑوں کے درد جیسے کہ گٹھیا (آرتھرائٹس) کے مریض زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سردی میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے جوڑوں تک خون اور غذائیت کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور درد و اکڑن بڑھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ہوا کے دباؤ میں کمی جوڑوں کے اردگرد ٹشوز پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
سرد موسم میں جوڑوں کو فعال رکھنے والا سیال گاڑھا ہو جاتا ہے جبکہ خشک اور ٹھنڈی ہوا ناک میں سوجن پیدا کر کے دمہ، نزلہ، سائنوس اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بھی بگاڑ سکتی ہے۔
دھوپ کی کمی کے باعث وٹامن ڈی کی سطح کم ہو جاتی ہے جو جسم میں سوزش کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین نے سردیوں میں سوزش کو قابو میں رکھنے کے لیے چند آسان مگر مؤثر اقدامات تجویز کیے ہیں:
سوزش کم کرنے کے لیے 8 اہم اقدامات
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں مچھلی، سبز پتوں والی سبزیوں، پھل، خشک میوہ جات، ہلدی اور ادرک پر مشتمل غذاؤں کا استعمال بڑھا دیں۔
پانی زیادہ پئیں تاکہ جسم میں خشکی نہ ہو۔ ہلکی پھلکی ورزش جیسے چہل قدمی یا یوگا کی عادت اپنائیں، وزن کو قابو میں رکھیں۔
روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند پوری کریں۔ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مراقبہ یا گہری سانس کی مشق کریں۔
گرم کپڑے پہنیں اور جسم کو گرم رکھیں۔ گھروں میں نمی برقرار رکھنے کے لیے ہیومیڈیفائر کا استعمال لازمی کریں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
سرد موسم کے دوران جوڑوں میں سوجن یا درد مسلسل بڑھتا جائے، جوڑوں میں سوجن شدید سرخی آ جائے، دمہ یا سانس کے مسائل بگڑ جائیں، یا ہاضمے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط اور مناسب طرزِ زندگی اپنا کر سردیوں میں بھی سوزش والی بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔