مرنال ٹھاکر اور دھنش کی ویلنٹائن ڈے شادی کی افواہوں نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بالی ووڈ اور ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری کے معروف اداکار دھنش اور اداکارہ مرنال ٹھاکر ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، جہاں ویلنٹائن ڈے پر مبینہ شادی کی افواہوں نے انٹرنیٹ پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے، حالانکہ دونوں فنکار اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
فلم انڈسٹری سے وابستہ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق، مرنال ٹھاکر اور دھنش ممکنہ طور پر 14 فروری کو شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شادی ایک سادہ اور نجی تقریب ہوگی، جس میں صرف قریبی رشتہ دار اور دوست شرکت کریں گے۔ تاہم تاحال نہ تو دونوں اداکاروں اور نہ ہی ان کی ٹیموں کی جانب سے ان خبروں کی تصدیق یا تردید سامنے آئی ہے۔
یہ افواہیں اس وقت دوبارہ زور پکڑ گئیں جب گزشتہ چند ماہ سے دونوں کے درمیان مبینہ تعلق کی چہ مگوئیاں وقفے وقفے سے سامنے آتی رہی ہیں۔ یاد رہے کہ اگست 2025 میں 33 سالہ مرنال ٹھاکر نے ان قیاس آرائیوں پر کھل کر بات کی تھی اور واضح کیا تھا کہ دھنش ان کے صرف ایک اچھے دوست ہیں۔
اس وقت Only Kollywood کو دیے گئے انٹرویو میں مرنال ٹھاکر نے کہا تھا،
“دھنش میرے لیے صرف ایک اچھے دوست ہیں”،
اور یہ بھی بتایا تھا کہ ابتدا میں انہیں یہ افواہیں “مزاحیہ” لگیں۔
انہوں نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا تھا کہ دھنش خاص طور پر ان سے ملنے کے لیے چنئی سے ممبئی آئے تھے۔ مرنال کے مطابق،
“دھنش سَن آف سردار 2 کی تقریب میں شریک ہوئے تھے، اس بات کو غلط نہ سمجھا جائے۔ انہیں اجے دیوگن نے مدعو کیا تھا۔”
دوسری جانب News18 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دونوں اداکار واقعی ایک دوسرے کو ڈیٹ کر رہے ہیں، تاہم چونکہ تعلق نیا ہے اس لیے وہ فی الحال اسے عوامی سطح پر لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
یہ تمام چرچا اس وقت شروع ہوا جب فلم Son of Sardaar 2 کی اسکریننگ کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں مرنال اور دھنش کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اور آہستہ گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ بعد ازاں شائقین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ مرنال ٹھاکر دھنش کی فلم Tere Ishq Mein کا حصہ نہیں تھیں، اس کے باوجود وہ فلم کی ریپ اپ پارٹی میں موجود تھیں۔
سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو مزید تقویت اس وقت ملی جب Love Sonia کی اداکارہ مرنال ٹھاکر نے انسٹاگرام پر دھنش کی بہنوں کو فالو کیا، جس کے جواب میں دھنش کے اہلِ خانہ نے بھی انہیں فالو بیک کیا۔
ان تمام اشاروں اور افواہوں کے باوجود دھنش نے اب تک اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے نہ تو کسی تعلق کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان خبروں کی تردید کی ہے، جس کے باعث مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین میں تجسس بدستور برقرار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مرنال ٹھاکر سوشل میڈیا تھا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔