پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 16 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(سب نیوز) سری لنکا کے ہائی کمشنر، ریئر ایڈمریل ایچ ایل اے فریڈ سینویراتھنے (رٹائرڈ) نے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ اور ثقافت، اورنگزیب خان کھچی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران، ہائی کمشنر نے سری لنکا اور پاکستان کے درمیان ثقافتی ورثہ، آرٹس، اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے میں سری لنکا کی حکومت کی دلچسپی کا اظہار کیا۔
ہائی کمشنر نے پاکستان کی دوستی اور تعاون کی تعریف کی، خاص طور پر مشکل وقت میں، خاص طور پر ڈیٹوا سیکلون کے بعد اور ملک کی بازسازی کی کوششوں کے دوران پاکستان کی مدد کا ذکر کیا۔
ہائی کمشنر نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی بدھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر ٹیکسلا، لاہر، گندھارا، اور پشاور جیسے قدیم مراکز سے وابستہ پاکستان کے غنی بدھ ورثہ کا ذکر کیا۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان میں محفوظ بدھ ریلیکٹس اور آرٹفیکٹس کی نمائش سری لنکا میں کرنے کی امکانات کا جائزہ لینے کی خواہش ہے۔
وزیر قومی ورثہ اور ثقافت نے پروپوزلز کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی حکومت کی طرف سے پوری حمایت کا یقین دلایا۔
وزیر نے کہا کہ پاکستان سے سری لنکا میں ایک ثقافتی ٹیم بھیجنے اور کولمبو میں پاکستان ہائی کمیشن کے تعاون سے ایک ثقافتی کارکردگی کا انعقاد کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔
ملاقات میں سری لنکا اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات اور دونوں ممالک کی مشترکہ عزم کی توثیق کی گئی کہ ثقافت، ورثہ، اور عوامی رابطوں کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسرمایہ کاری اور ایکسپورٹ لانے والے سفارتکاروں کو مراعات دی جائیں گی، ازبک صدر سرمایہ کاری اور ایکسپورٹ لانے والے سفارتکاروں کو مراعات دی جائیں گی، ازبک صدر حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر عوام کو قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم کردیا وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کا وائٹ ہاؤس کا دورہ: نوبیل امن انعام ٹرمپ کو تحفے میں دینے کی دلچسپ کہانی بھارتی کوسٹ گارڈ نے 9 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا امریکا ایران پر طاقت کے استعمال کی کوشش فوری ترک کرے: چینی مندوب پاکستان کے نئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی صدر کو اسناد پیش کر دیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے درمیان سری لنکا تعاون کو
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔