پی آئی اے کا پاکستانی برآمد کنندگان کیلئے انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن سے اہم معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پی آئی اے نے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے انڈونیشیا کی قومی ایئرلائن 'گارودا' سے اہم معاہدہ طے کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی اے اور گارودا انڈونیشیا کے درمیان کارگو اسپیشل پرو ریٹ ایگریمنٹ پر دستخط کیے گئے ہیں جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو اب عالمی منڈیوں تک بلا تعطل اور آسان رسائی حاصل ہوگی۔
جنوری 2026 سے نافذ العمل ہونے والا یہ معاہدہ جولائی 2027 تک برقرار رہے گا۔ پاکستانی ایکسپورٹرز کارگو جدہ اور کوالالمپور کے ذریعے جکارتہ اور دیگر بین الاقوامی شہروں تک پہنچایا جائے گا۔
اس معاہدے کے تحت سڈنی، میلبورن، سنگاپور، ہانگ کانگ اور بینکاک کے لیے بھی کارگو کی سہولت ملے گی۔ شنگھائی، گوانگزو، سیول اور آسٹریلیا کی مارکیٹوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی آسان ہو جائے گی۔
برآمد کنندگان اور مال بردار ایجنٹس کے لیے مسابقتی نرخ اور ترجیحی بنیادوں پر کارگو کی ترسیل یقینی بنائی گئی ہے۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق معاہدے کا مقصد پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور فضائی کارگو کے کاروبار کو آسان اور وسیع بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمد کنندگان پی آئی اے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔