سوئیڈن کے نوجوان نے فٹبال کنٹرول کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوئیڈن میں فٹبال سے غیر معمولی لگاؤ رکھنے والے ایک نوجوان نے اپنی محنت، برداشت اور عزم سے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق سوئیڈن کے شہر لنکوپنگ میں واقع رائڈشیلن اسپورٹس کمپلیکس میں ڈینیئل یعقوب نے فٹبال کو مسلسل 28 گھنٹے، 21 منٹ اور 2 سیکنڈ تک ہوا میں کنٹرول میں رکھ کر گینیز ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا۔
ڈینیئل یعقوب نے مردوں کی کیٹیگری میں طویل ترین دورانیے تک فٹبال کنٹرول کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اس دوران انہوں نے پیر، گھٹنے، سینہ اور سر کی مدد سے فٹبال کو زمین پر گرنے نہیں دیا۔ یہ کوشش جسمانی اور ذہنی طور پر نہایت مشکل سمجھی جا رہی ہے، جس کے لیے طویل تربیت اور غیر معمولی توجہ درکار ہوتی ہے۔
گینیز ورلڈ ریکارڈز کے قواعد کے مطابق ڈینیئل یعقوب کو ہر تین گھنٹے بعد 15 منٹ کے وقفے کی اجازت دی گئی تھی، جس کے دوران وہ آرام اور توانائی بحال کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود طویل دورانیے تک مسلسل توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے انہوں نے کامیابی سے عبور کیا۔
اس سے قبل یہ عالمی ریکارڈ برطانیہ کے ڈین میگنس کے پاس تھا، جنہوں نے جون 2010 میں 26 گھنٹے تک فٹبال کنٹرول کر کے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ڈینیئل یعقوب نے نہ صرف اس ریکارڈ کو توڑا بلکہ اسے نمایاں فرق سے بہتر بھی بنایا۔
گینیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینیئل یعقوب نے کہا کہ یہ کامیابی ان کے فٹبال سے گہرے جنون، کانٹینٹ کی تخلیق کے شوق اور ذاتی ترقی کے سفر کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مسلسل محنت اور لگن کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈینیئل یعقوب نے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔