ویرات کوہلی اور انوشکا شرما نے نئی زمین کی خریداری پر کتنے کروڑ کی سرمایہ کاری کی؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بھارت کے معروف کرکٹر ویرات کوہلی اور بالی وڈ اداکارہ انوشکا شرما نے علی باغ میں اپنی دوسری بڑی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے پانچ ایکڑ سے زائد زمین خریدی جس کی مالیت تقریباً 37.86 کروڑ بھارتی روپے ہے۔
دستاویزات کے مطابق زمین کا رجسٹرکشن عمل 13 جنوری 2026 کو مکمل ہوا۔ خریداری میں دو پلاٹ شامل ہیں جن کے رقبے بالترتیب 14,740 مربع میٹر اور 6,270 مربع میٹر ہیں جو مجموعی طور پر تقریباً 21,010 مربع میٹر بنتے ہیں۔ زمین زیراڈ گاؤں میں واقع ہے جو آواس بیچ کے قریب علی باغ کے ریگڑ ضلع میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحائف وصول کرنا کیوں پسند نہیں ہے؟ انوشکا شرما کا انوکھا موقف
دستاویزات کے مطابق، جوڑے نے اسٹامپ ڈیوٹی کے طور پر 2.
یہ ویرات اور انوشکا کی آلی باغ میں دوسری سرمایہ کاری ہے۔ چار سال قبل انہوں نے اسی علاقے میں آٹھ ایکڑ زمین تقریباً 19 کروڑ روپے میں خریدی تھی، جس پر ایک لگژری ولا تعمیر کیا گیا ہے، جس میں سوئمنگ پول، جاکوزی، منفرد کچن، باغات اور عملے کے لیے رہائش کی سہولت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی اور انوشکا شرما کو بیرون ملک کیفے سے کیوں نکلنا پڑا؟
دیگر مشہور شخصیات جیسے امیتابھ بچن، کارتک آریان اور سہانا خان نے بھی علی باغ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ بڑے ڈویلپرز جیسے اوبیروی ریئلٹی، لوڈھا گروپ اور ہیرانندانی نے بھی علاقے میں زمین کے پلاٹ رکھے ہیں۔ اور اب ویرات کوہلی اور انوشکا شرما اب اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوشکا شرما ویرات انوشکا شرمایہ کاری ویرات کوہلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انوشکا شرما ویرات انوشکا شرمایہ کاری ویرات کوہلی
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔