طالبان حکومت دو واضح دھڑوں میں تقسیم، بی بی سی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی اعلیٰ قیادت کے اندر شدید اختلافات اور دھڑے بندی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے سربراہ شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کا وفادار دھڑا ملک کو ایک سخت گیر اسلامی امارت کی جانب لے جانا چاہتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق شیخ ہیبت اللہ ایک ایسے نظام کے حامی ہیں جہاں ان کے وفادار علما کو عوامی اور نجی زندگی کے ہر شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل ہو۔ وہ زیادہ تر قندھار میں مقیم رہتے ہیں اور محدود نظریاتی شخصیات کے ساتھ مل کر اہم فیصلے کرتے ہیں، جبکہ کابل میں موجود حکومت کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اندرونی اختلافات سے خوفزدہ ہیں اور ناقدین کو سزاؤں، برطرفیوں یا اختیارات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی شدت پسند سوچ کی مثال بی بی سی نے یہ دی ہے کہ 2017 میں انہوں نے اپنے بیٹے کو خودکش حملے کی اجازت دی تھی۔
بی بی سی کے مطابق طالبان حکومت کے بیشتر احکامات قندھار سے جاری ہوتے ہیں اور کابل کے وزرا ان پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ کئی وزرا کو شیخ ہیبت اللہ سے ملاقات کے لیے دنوں یا ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ اہم محکموں، اسلحے کی تقسیم اور فیصلہ سازی بتدریج کابل سے قندھار منتقل کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اپنی وفادار سیکیورٹی فورسز بھی تشکیل دے رہے ہیں اور بعض اوقات سینئر وزرا کو نظرانداز کرتے ہوئے جونیئر سرکاری افسران کو براہ راست احکامات دیتے ہیں۔
مزید پڑھیںافغانستان میں غربت اور جبر، طالبان کے خلاف بغاوت کا خدشہ
بی بی سی کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی عوامی زندگی میں شمولیت، پارکوں، بیوٹی سیلونز، بغیر محرم سفر اور حتیٰ کہ اونچی آواز میں بات کرنے پر پابندیاں بھی شیخ ہیبت اللہ کے احکامات پر عائد کی گئیں۔
دوسری جانب طالبان کے اندر ایک دوسرا دھڑا بھی موجود ہے جس کی قیادت عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ کابلی دھڑا شیخ ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں سے ناخوش ہے اور ایسی حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے جو عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ستمبر 2025 میں شیخ ہیبت اللہ کے حکم پر ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا، تاہم کابلی دھڑے نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین دن کے اندر انٹرنیٹ بحال کر دیا۔
بی بی سی کے مطابق سراج الدین حقانی ایک مضبوط کمانڈر ہیں اور وہ متعدد مواقع پر شیخ ہیبت اللہ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی بی سی کے مطابق شیخ ہیبت اللہ رپورٹ میں گیا ہے کہ ہیں اور
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔