بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی اعلیٰ قیادت کے اندر شدید اختلافات اور دھڑے بندی موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے سربراہ شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کا وفادار دھڑا ملک کو ایک سخت گیر اسلامی امارت کی جانب لے جانا چاہتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق شیخ ہیبت اللہ ایک ایسے نظام کے حامی ہیں جہاں ان کے وفادار علما کو عوامی اور نجی زندگی کے ہر شعبے پر مکمل کنٹرول حاصل ہو۔ وہ زیادہ تر قندھار میں مقیم رہتے ہیں اور محدود نظریاتی شخصیات کے ساتھ مل کر اہم فیصلے کرتے ہیں، جبکہ کابل میں موجود حکومت کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اندرونی اختلافات سے خوفزدہ ہیں اور ناقدین کو سزاؤں، برطرفیوں یا اختیارات سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی شدت پسند سوچ کی مثال بی بی سی نے یہ دی ہے کہ 2017 میں انہوں نے اپنے بیٹے کو خودکش حملے کی اجازت دی تھی۔

بی بی سی کے مطابق طالبان حکومت کے بیشتر احکامات قندھار سے جاری ہوتے ہیں اور کابل کے وزرا ان پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ کئی وزرا کو شیخ ہیبت اللہ سے ملاقات کے لیے دنوں یا ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ اہم محکموں، اسلحے کی تقسیم اور فیصلہ سازی بتدریج کابل سے قندھار منتقل کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اپنی وفادار سیکیورٹی فورسز بھی تشکیل دے رہے ہیں اور بعض اوقات سینئر وزرا کو نظرانداز کرتے ہوئے جونیئر سرکاری افسران کو براہ راست احکامات دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں

افغانستان میں غربت اور جبر، طالبان کے خلاف بغاوت کا خدشہ

بی بی سی کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی عوامی زندگی میں شمولیت، پارکوں، بیوٹی سیلونز، بغیر محرم سفر اور حتیٰ کہ اونچی آواز میں بات کرنے پر پابندیاں بھی شیخ ہیبت اللہ کے احکامات پر عائد کی گئیں۔

دوسری جانب طالبان کے اندر ایک دوسرا دھڑا بھی موجود ہے جس کی قیادت عبدالغنی برادر، ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ کابلی دھڑا شیخ ہیبت اللہ کی سخت گیر پالیسیوں سے ناخوش ہے اور ایسی حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے جو عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ستمبر 2025 میں شیخ ہیبت اللہ کے حکم پر ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا، تاہم کابلی دھڑے نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین دن کے اندر انٹرنیٹ بحال کر دیا۔

بی بی سی کے مطابق سراج الدین حقانی ایک مضبوط کمانڈر ہیں اور وہ متعدد مواقع پر شیخ ہیبت اللہ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کر چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بی بی سی کے مطابق شیخ ہیبت اللہ رپورٹ میں گیا ہے کہ ہیں اور

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق