پاکستان, سعودیہ, ترکیہ کےدرمیان دفاعی معاہدہ زیر غور،وزیر دفاعی پیداوار
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے نے تقریباً ایک سال کی بات چیت کے بعد دفاعی معاہدے کا ایک مسودہ تیار کرلیا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے رضا حیات ہراج کا کہنا تھا کہ تینوں علاقائی طاقتوں کے درمیان یہ ممکنہ معاہدہ گزشتہ سال اعلان کیے گئے پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ معاہدے سے الگ ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے ضروری ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا سہ فریقی معاہدہ اس وقت پائپ لائن میں ہے۔ اس معاہدے کا مسودہ ہمارے پاس موجود ہے، یہی مسودہ سعودی عرب کے پاس بھی ہے اور ترکیے کے پاس بھی دستیاب ہے، تینوں ممالک اس پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ تینوں ممالک گزشتہ دو برسوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد کے خدشات کے پیش نظر باہمی تعاون کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے تینوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ بات چیت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی بد اعتمادی ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ، جنگوں یا دہشت گردی سے جنم لینے والی عدم استحکام کا باعث بنتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تینوں ممالک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔