ایس ایچ او تھانہ لکسیاں سرگودھا ملزموں کی فائرنگ سے شہید، حملہ آور بھی مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سرگودھا (نمائندہ خصوصی) ایس ایچ او تھانہ لکسیاں عامر رضوان ملزموں کی فائرنگ سے شہید ہو گئے ایس ایچ او تھانہ لکسیاں سرگودھا سب انسپکٹر عامر رضوان نے ہوائی فائرنگ کی کال پر نفری کے ہمراہ کوٹ مومن کے علاقے ملزموں کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیا، تو ملزموں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، عامر رضوان شدید زخمی ہو گئے،جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا،جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا نوٹس، آر پی او سرگودھا سے رپورٹ طلب لی اور ڈی پی او سرگودھا کو ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔ انہوں نے ایس ایچ او تھانہ لکسیاں سب انسپکٹر عامر رضوان کی لازوال قربانی کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ علاوہ ازیں، ایس ایچ او عامر رضوان شہید کا قاتل ملزم تصور نسوانہ بھی فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔شہید عامر رضوان خان ایس ایچ او لکسیاں کا قاتل ملزم تصور نسوانہ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ آئی جی پنجاب نے رپورٹ طلب کر لی اور فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کرنے والے ایس ایچ او کو خراج تحسین اور پسماندگان سے اظہار ہمدردی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔