روسی صدر کا نیتن یاہو اور مسعود پزیکشیان کو ٹیلیفون، کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کے ساتھ الگ الگ فون پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر روس کی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
کریملن کے مطابق ولادیمیر پیوتن نے نیتن یاہو سے بات میں وسط مشرق میں استحکام بڑھانے اور تمام متعلقہ ریاستوں کی شرکت سے مثبت اور تعمیری مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، ولادی میر پیوٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو
روس نے وسط مشرق کے مختلف فریقین کے درمیان ثالثی جاری رکھنے اور سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
اسی طرح ولادیمیر پیوتن نے ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ روس علاقائی تناؤ کو کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں اور تعاون جاری رکھے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران میں مظاہروں کے بعد سخت کریک ڈاؤن ہوا اور خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل نے گزشتہ سال ایرانی جوہری مقامات پر حملے کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی پر روس کا سخت ردعمل سامنے آگیا
روس نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور پچھلے سال دونوں ممالک نے 20 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ بھی طے کیا تھا۔
روس کی ثالثی کی پیشکش کا مقصد خطے میں مزید جنگ یا وسیع کشیدگی کے خطرات کو کم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب متعدد عالمی طاقتیں اور علاقائی حکام مسلح تصادم کے نقصان دہ اثرات سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل امریکا ایران ثالثی روس مشرق وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران ثالثی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔