سعودی عرب کی جانب سے مصر اور فلسطین کو قربانی کا گوشت فراہم
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
سعودی عرب نے اپنے منصوبۂ استفادہ از ہدی و اضاحی کے تحت مصر اور فلسطین کو قربانی کے گوشت کے حصے فراہم کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور بنگلہ دیش کا دو طرفہ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
عرب نیوز کے مطابق اس سلسلے میں قاہرہ میں سعودی سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک باضابطہ تقریب منعقد کی گئی جس میں گوشت کی ترسیل کا عمل مکمل کیا گیا۔
یہ منصوبہ رائل کمیشن برائے مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
تقریب کی صدارت مصر میں سعودی عرب کے نائب سفیر خالد بن حماد الشمری نے کی جنہوں نے مصر کے حصے کا گوشت میجر جنرل محمد رضا کے حوالے کیا جبکہ فلسطین کا حصہ قاہرہ میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح کے سپرد کیا گیا۔
اس موقعے پر منصوبے کے جنرل سپروائزر سعد بن عبدالرحمن الوابل بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران اعلان کیا گیا کہ 30 ہزار قربانی کے جانوروں کا گوشت مصر کو فراہم کیا گیا ہے جبکہ اتنی ہی مقدار ریاست فلسطین کے لیے مختص کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا خیبر پختونخوا میں ونٹر کِٹس کی تقسیم کا آغاز
نائب سعودی سفیر خالد بن حماد الشمری نے اس موقعے پر کہا کہ یہ منصوبہ سنہ 1983 سے جاری ہے اور قربانی کے فریضے کی انجام دہی کے لیے ایک جامع اور منظم فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے شفاف طریقہ کار، منصفانہ تقسیم اور دیرپا اثرات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت قربانی کا گوشت اندرون ملک کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں مستحق مسلم افراد تک پہنچایا جاتا ہے۔
منصوبے کے جنرل سپروائزر سعد بن عبدالرحمان الوابل نے کہا کہ سعودی عرب اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ قربانی کے گوشت کو مؤثر انداز میں استعمال اور تقسیم کیا جائے اور یہ امداد تقریباً 26 اسلامی ممالک میں مستحقین تک پہنچائی جا رہی ہے۔
قاہرہ میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے فلسطینی عوام کی جانب سے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ تعاون فلسطینی عوام کے لیے نہایت اہم اور قابل قدر ہے۔
مزید پڑھیں: شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت سے متعلق خبر پر وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تشویش، جلد صحتیابی کے لیے دعا
ادھر مصر کے نمائندے نے بھی سعودی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مملکتِ سعودی عرب کی عرب اور اسلامی دنیا کے لیے مسلسل خدمات قابلِ تحسین ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب کا مسلم ممالک کو گوشت کا عطیہ سعودی نائب سفیر خالد بن حماد الشمری قاہرہ قربانی کا گوشت مصر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی نائب سفیر خالد بن حماد الشمری قاہرہ قربانی کا گوشت قربانی کے کیا گیا کا گوشت کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔