امریکی پولیس کے ہاتھوں تذلیل اُٹھانے والی معذور خاتون عالیہ رحمان کون ہیں ؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
امریکا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہراسانی اور غیرقانونی رویے کا سامنا کرنے والے عالیہ رحمان کی معذوری بھی اہلکاروں کا دل نرم نہ کرسکی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا میں فیڈرل ایجنٹس کے ہاتھوں مبینہ طاقت کے بے جا استعمال کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔
جہاں ایک خاتون نے گرفتاری کے وقت اپنی جسمانی معذوری سے اہلکاروں کو آگاہ بھی کیا اس کے باوجود انھیں گاڑی سے زبردستی نکالا اور گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے۔
ان خاتون کی شناخت عالیہ رحمان کے نام سے ہوئی ہے جو امریکا میں ہی پیدا ہوئیں اور ان کے والدین کا تعلق بنگلا دیش سے ہے۔ وہ امریکا میں ایک سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔
عالیہ رحمان نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ ٹریومیٹک برین انجری کے علاج کے لیے ایک طبی مرکز جا رہی تھیں، جب نقاب پوش فیڈرل ایجنٹس نے ان کی گاڑی کو روکا۔
ان کے بقول میں نے اہلکاروں کو واضح طور پر بتایا کہ معذور ہوں اور علاج کے لیے آئی ہوں، مجھے چیک اپ کرانے دیں۔
خاتون نے مزید بتایا کہ اس کے باوجود مجھے بے رحمانہ طریقے سے گاڑی سے باہر گھسیٹ کر نکالا گیا اور غیر انسانی سلوک برتا گیا۔
عالیہ رحمان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ اس واقعے میں زندہ بچ گئیں ورنہ حال ہی میں اسی جگہ ایک خاتون کو اہلکاروں نے قتل بھی کیا۔
عالیہ رحمان نے بتایا کہ مجھے چیک اپ کرانے کے بجائے براہِ راست حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں اعصاب جواب دے گئے اور میں بے ہوش ہو گئی۔
انھوں نے کہا کہ جب میں بے ہوش ہوئی تو اس کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔ مجھے طبی امداد فراہم کی گئی۔
عالیہ رحمان نے بتایا کہ وہ اس دوران مزاحمت کرنے سے گریزاں رہیں کیونکہ چند دن قبل پیش آنے والے ایک اور ہولناک واقعے کا علم تھا۔
یاد رہے کہ اسی علاقے میں صرف دو بلاک کے فاصلے پر چند روز قبل 37 سالہ رینی نکول گُڈ فیڈرل ایجنٹس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی تھیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق رینی گُڈ کو سینے، بازو اور سر میں گولیاں لگیں، اور طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالیہ رحمان بتایا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔