پنجاب لوکل گورنمنٹ انتخابات کا کیس مقرر، چیف سیکریٹری 22 جنوری کو طلب
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
الیکشن کمیشن (ای سی پی) نے پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات نہ کروانے کا کیس سماعت کےلیے مقرر کردیا۔
ای سی پی نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کو 22 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے الیکشن کمیشن کو 13 اکتوبر 2025ء کو دی گئی یقین دہانی کے باجود حلقہ بندی رولز، کنڈکٹ آف الیکشن رولز، لوکل ایریاز کی ڈیمارکیشن، یونین کونسلوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن اور تصدیق شدہ نقشہ جات 10جنوری تک مہیا نہیں کیے گئے۔
الیکشن کمیشن نے کیس کو جمعرات 22 جنوری کو سماعت کےلیے مقرر کر لیا تاکہ لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کےلیے مزید کارروائی کی جاسکے، پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کی میعاد 31 دسمبر 2021 کو ختم ہوگئی تھی۔
ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب حکومت نے مختلف طریقے اور بہانے استعمال کیے اور الیکشن کے انعقاد کےلیے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔
صوبے میں بلدیاتی انتخابات کو یقینی بنانا پنجاب گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کی آئینی وقانونی ذمے داری ہے، جس کو پورا کرنے کےلیے الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ اقدام اُٹھایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔