سکھر، بھل صفائی کے دوران شہر بھر میں قلت آب کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر بیراج اور نہروں کی بھل صفائی کے دوران دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی، شہر میں قلت آب، دریائے سندھ میں سکھر بیراج اور اس سے نکلنے والی نہروں کی بھل صفائی اور مرمتی کام کے دوران پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے، جس کے باعث دریائے سندھ کے خشک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سکھر بیراج اور اس سے نکلنے والی سات بڑی نہروں، جن میں روہڑی کینال، نارا کینال، خیرپور ایسٹ کینال، خیرپور ویسٹ کینال، دادو کینال، رائس کینال اور کیرتھر کینال شامل ہیں، کی بھل صفائی اور بیراج کے تمام گیٹس کی مرمت کا عمل جاری ہے۔ ان کاموں کے دوران دریائے سندھ میں پانی کی آمد کم ہونے سے دریا کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر دریا کے کنارے خشک دکھائی دینے لگے ہیں۔پانی کی اس کمی کے باعث سکھر شہر کے متعدد علاقوں میں واٹر سپلائی متاثر ہو چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھریلو استعمال کے لیے پانی دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔خواتین اور بچے دور دراز علاقوں میں واقع ہینڈ پمپوں سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی محلوں میں ٹینکروں کے ذریعے مہنگے داموں پانی خریدنا پڑ رہا ہے۔سماجی، شہری اور تاجر حلقوں نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر نوٹس لیں اور شہر میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بھل صفائی اور مرمتی کام کے دوران متبادل انتظامات نہ ہونے کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کا فوری حل ناگزیر ہے۔شہریوں نے بالائی حکام سے اپیل کی ہے کہ نہ صرف سکھر شہر بلکہ زیریں علاقوں میں بھی پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور واٹر سپلائی اسکیموں کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے، تاکہ عوام کو اس سنگین صورتحال سے نجات مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دریائے سندھ بھل صفائی کے دوران پانی کی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔