ہنی سنگھ کا غیر اخلاقی بیان وائرل، گلوکار نے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
نامور بھارتی گلوکار و موسیقار یویو ہنی سنگھ نے سوشل میڈیا پر وائرل اپنے غیر اخلاقی بیان کے حوالے سے وضاحت جاری کردی۔
سوشل میڈیا پر بھارتی میوزک کمپوزر، ریپر، پاپ گلوکار یو یو ہنی سنگھ کا ایک کلپ تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں وہ نئی دلی میں ایک میوزک کنسرٹ کے دوران شدید سردی سے متعلق ایک غیر اخلاقی بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یو یو ہنی سنگھ کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی صارفین نے گلوکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بیان کو نہ صرف غیر اخلاقی قرار دیا بلکہ گلوکار سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
بعد ازاں، گلوکار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میری بات کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔
گلوکار نے ویڈیو بیان میں کہا کہ صبح سے میرا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ایڈیٹ کرکے وائرل کیا جارہا ہے جو بہت سے لوگوں کو برا لگ رہا ہے، میں آپ لوگوں کو اس کی کہانی بتانا چاہتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک شو میں بطور مہمان شرکت کی اور اس سے ایک روز قبل مختلف ڈاکٹرز سے میری ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے بتایا کہ آج کل کی نسل (جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری) سے بہت سے متاثر ہورہی ہے۔
مزید کہا کہ شو کے دوران بھی میں نے جب جین زی کی بڑی تعداد دیکھی تو سوچا ان کو انہیں کی زبان میں مشورہ دے دوں، اور میں نے او ٹی ٹی کی زبان یعنی جو زبان انہیں فلموں اور ڈراموں میں پسند ہے، اسی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اس حوالے سے احتیاط کریں۔
یو یو ہنی سنگھ کا کہنا تھا کہ جین زی کے لیے استعمال کردہ زبان کچھ لوگوں کو بہت بری لگی، میں ان سے اپنے بیان پر معافی مانگتا ہوں، میرا کسی کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی مقصد نہیں تھا، انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور میں کوشش کروں گا آج کے بعد ایسی زبان استعمال نہیں کروں۔
یاد رہے کہ ماضی میں ایک پروگرام کے دوران ہنی سنگھ نے ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کیا تھا، ان کا کہان تھا کہ وہ ’بائی پولر ڈس آرڈر‘ کے ایک شدید کیس سے گزر چکے ہیں۔
انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے خود کو مردہ تصور کر لیا تھا اور وہ ذہنی مریض بن چکے تھے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا پر یو ہنی سنگھ ہنی سنگھ کا غیر اخلاقی انہوں نے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ