بجلی تقسیم کارکمپنیوں کو 2025ء میں بھاری خسارہ، 233 ارب کا بوجھ صارفین پر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025ء میں کہا کہ ٹیکسز سرچارجز، ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات ازالے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ 2025ء میں صرف ایک بجلی کی کمپنی ٹیسکو ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ایک سال میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات سے گردشی قرض میں 397 ارب روپے اضافہ ہوا۔ پاور سیکٹر کے اداروں میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی عدم موجودگی پلاننگ کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ 2025ء میں کے الیکٹرک، پیسکو، حیسکو، سیپکو اور کیسکو کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔ ان کمپنیوں میں طویل لوڈ شیڈنگ، کم وصولیاں، بڑھتے واجبات بڑے مسائل ہیں۔ 2025ء میں صرف ایک کمپنی کم نقصانات کے ہدف کو پورا کر سکی۔ کے الیکٹرک ڈسکوز میں نئے کنکشنز، میٹرز کا اجراء، نیٹ میٹرز کنکشن میں تاخیر عام ہیں۔ 2025ء میں تھرکول پلانٹس کو کم چلایا گیا۔ تھر کے کوئلے سے چلنے پلانٹس کو 23 سے 67 فیصد صلاحیت پر چلایا گیا۔ چار ہزار میگاواٹ کی لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو صرف 35 فیصد تک استعمال کیا گیا۔ مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو ادائیگیاں 100 فیصد بنیاد پر کی گئیں۔ 2025ء بجلی کے ترسیلی نظام سے مکمل استفادہ نہیں کیا گیا۔ بجلی کی ترسیل کے تقریباً تمام منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔ پاور سیکٹر کی ترقی محدود رہی۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی سمیت مختلف اداروں کے ذریعے ڈسکوز کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ڈسکوز کی ناقص کارکردگی سے 233 ارب روپے کا ڈیٹ سروس سرچارجز کا بوجھ صارفین نے اٹھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بجلی کی
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔