ملکہ ترنم کا گیت 53 سال بعد بھارتی جین زی کے دلوں کی دھڑکن بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
آج کل جب آپ انسٹاگرام سکرول کرتے ہیں تو اچانک ایک ایسی آواز آپ کو روک دیتی ہے جس میں درد، مٹھاس اور ایک عجیب سی کسک ہے، یہ آواز پاکستان کی لیجنڈری گلوکارہ میڈم نور جہاں کی ہے اور گانا ہے سانوں نہر والے پل تے بلا کے۔ بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ گانا جو تقریباً پانچ دہائیاں قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، اب ونائل ریکارڈز یا ریڈیو کے بجائے انڈین نوجوانوں کے سمارٹ فونز پر راج کر رہا ہے، الگورتھم اور مختصر ویڈیوز کے اس دور میں جہاں رشتے بہت پیچیدہ اور بے یقینی کا شکار ہیں، نور جہاں کی آواز اور اس گیت کے گہرے لفظوں نے ایک نئی نسل کے دل جیت لیے ہیں۔ اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسٹاگرام پر محض 43 سیکنڈ کے ایک کلپ پر ایک لاکھ سے زیادہ ریلز بن چکی ہیں، پٹیالہ محفل نامی ایک گروپ کی جانب سے اس گانے کی ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد اسے کروڑوں بار دیکھا گیا جس نے اس شہکار کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے نوجوان اس گانے کو اپنی جدید زندگی اور ڈیٹنگ کے مسائل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، ایک انڈین انفلوئنسر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ نور جہاں جی نے لو بومبنگ اور گھوسٹنگ جیسے الفاظ کی بہت پہلے ہی وضاحت کر دی تھی۔ گانے کے بول ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے، تے خورے ماہی کتھے رہ گیا‘ (ہمیں نہر والے پل پر بلا کر نہ جانے محبوب کہاں رہ گیا) آج کے دور کے اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں کوئی میسج کا جواب نہیں دیتا یا وعدہ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ گانا صرف موسیقی نہیں بلکہ ایک خاموش اور ٹھہرا ہوا جذبہ ہے، اس گانے میں موجود بے بسی اور انتظار کی کیفیت کو جنریشن زی اپنی سچویشن شپس اور ادھورے جذبوں کا عکس قرار دے رہی ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ گانا پہلی مرتبہ 14 ستمبر 1973 کو ریلیز ہونے والی پاکستانی پنجابی فلم دکھ سجناں دے میں شامل کیا گیا تھا، سلیم اقبال کی موسیقی اور رؤف شیخ کے لکھے ہوئے یہ بول پنجاب کی ثقافت، دیہی مناظر اور چھپ کر ملنے والے عاشقوں کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ چڑھدے اور لہندے پنجاب میں نہر کا پل محض ایک جگہ نہیں بلکہ انتظار اور امید کا ایک استعارہ ہے، پنجاب کا یہ ثقافتی پس منظر سرحد کے دونوں طرف بسنے والے لوگوں کے لیے یکساں کشش رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ جغرافیائی حدود کو عبور کر کے بھارتی نوجوانوں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اس گانے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔