مذاکرات کا مینڈیٹ اب بھی محمود اچکزئی کے پاس ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں ملک میں نئے چارٹر کی ضرورت ہے، ہم سب سے بات کر سکتے ہیں اور نئے چارٹر سے چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، مذاکرات کا مینڈیٹ اب بھی محمود خان اچکزئی کے پاس ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے ایک نجی ٹی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کے حوالے سے ہماری جماعت میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی نیک شگون ہے، یہ تعیناتی پہلے ہی ہو جانی چاہیے تھی، لیکن دیر آئے درست آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں ہیں، ہم یہی اُمید رکھتے ہیں کہ بانی کی رہائی سمیت وہ ہمارے مقصد کو آگے بڑھائیں گے۔ اسد قیصر نے کہا کہ پارلیمنٹ اب مکمل ہوئی ہے، اپوزیشن لیڈر کے بغیر پارلیمنٹ مکمل نہیں تھی۔ رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں ملک میں نئے چارٹر کی ضرورت ہے، ہم سب سے بات کر سکتے ہیں اور نئے چارٹر سے چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی صاحب جو بہتر سمجھیں گے کریں گے، مذاکرات کا مینڈیٹ اب بھی محمود ان ہی کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کو قابل قبول ہو۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا منتخب وزیر اعظم جیل میں ہے، عوام نے اپنے حق کے لیے نکلنا ہے، آئین و قانون کی حکمرانی ہو گی تو ملک ترقی کرے گا، ہم آئین و قانون کی بحالی کے لیے نکلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسد قیصر نے کہا نئے چارٹر نے کہا کہ
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔