کراچی: پولیس مقابلے میں ایک اہلکار شہید، ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی کے علاقے کیماڑی میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا، مقابلے کے دوران ایک ڈاکو بھی مارا گیا۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں دو اہلکار زخمی ہوئے جن میں شدید زخمی ہونے والے اہلکار واجد ہسپتال منتقلی کے دوران شہید ہو گیا، زخمی اہلکار کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد ایس ایس پی کیماڑی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور پولیس افسران سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں، اس موقع پر ایس ایس پی کیماڑی نے شہید اہلکار واجد کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار واجد نے انتہائی بہادری اور دلیری کے ساتھ ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا۔
ایس ایس پی کیماڑی نے شہید اہلکار کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا، شہید اہلکار واجد شادی شدہ تھے اور ان کا تعلق مانسہرہ سے تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اہلکار واجد
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔