چترال میں مسافر کوچ حادثہ، دو افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
حکام کے مطابق اپر چترال میں مسافر کوچ کے حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے شدید موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود فوری اور مؤثر امدادی کارروائی کا آغاز کیا اور پاک فوج کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اسلام ٹائمز۔ اپر چترال میں پشاور سے چترال جانے والی ایک فلائنگ کوچ کو کوراغ کے مقام پر دریا کے کنارے حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد مسافر زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق اپر چترال میں مسافر کوچ کے حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے شدید موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود فوری اور مؤثر امدادی کارروائی کا آغاز کیا اور پاک فوج کے جوانوں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو فوری طور پر ٹی ایچ کیو اسپتال بونی منتقل کر دیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران پاک فوج نے مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور شدید سردی کے پیش نظر انہیں گرم لباس بھی فراہم کیا، بروقت اور منظم امدادی کارروائی کے باعث کئی قیمتی جانوں کو بچا لیا گیا۔ مقامی شہریوں اور متاثرہ مسافروں نے مشکل حالات میں فوری رسپانس اور انسانی خدمت کے جذبے پر پاک فوج کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو قابل تحسین قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چترال میں پاک فوج کیا اور
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔