ٹیلی کام نیٹ ورکس مسلسل سائبر خطروں کی زد میں؛ سیکورٹی کمپنی کی نئی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیلی کام کے شعبے کو درپیش سائبر سیکورٹی خطرات آنے والے برسوں میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں جب کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ خطرات 2026 تک برقرار رہنے کا قوی امکان رکھتے ہیں۔
سائبر سیکورٹی کے عالمی ادارے کیسپرسکی کی جانب سے جاری تازہ سیکورٹی بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں مواصلاتی نظام کو جدید بنایا ہے، وہیں سائبر حملوں کے لیے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کو ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹس، سپلائی چین حملوں، ڈی ڈی او ایس رکاوٹوں اور سم سے جڑے فراڈ جیسے خطرات کا مسلسل سامنا رہا۔ ان حملوں کا مقصد صرف وقتی نقصان نہیں بلکہ طویل عرصے تک نیٹ ورکس میں خفیہ رسائی حاصل کرنا، حساس معلومات چرانا اور نظام پر اثر و رسوخ قائم رکھنا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے حملے نہ صرف سروسز کو متاثر کرتے ہیں بلکہ قومی سطح کے انفراسٹرکچر کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
کیسپرسکی نے نشاندہی کی ہے کہ ٹیلی کام نیٹ ورکس مختلف وینڈرز، سافٹ ویئر پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث سپلائی چین کی کسی ایک کمزوری کا فائدہ اٹھا کر پورے نیٹ ورک کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کے 12.
اسی عرصے میں دنیا بھر کے تقریباً 9.86 فیصد ٹیلی کام ادارے رینسم ویئر حملوں کی زد میں آئے، جن کا مقصد تاوان کے عوض ڈیٹا یا سروسز کی بحالی تھا۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت اور نیٹ ورک آٹومیشن کے بڑھتے استعمال نے آپریشنل فوائد تو فراہم کیے ہیں، تاہم اگر انہیں مکمل انسانی نگرانی کے بغیر نافذ کیا جائے تو یہ خود ایک بڑا سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں۔
کیسپرسکی نے سفارش کی ہے کہ ٹیلی کام ادارے مسلسل تھریٹ انٹیلی جنس پر سرمایہ کاری کریں، اہم انفرا اسٹرکچر کی نگرانی مضبوط بنائیں اور ملازمین کو باقاعدہ سائبر سیکورٹی آگاہی کی تربیت فراہم کریں تاکہ مستقبل کے خطرات سے نمٹا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیلی کام
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔