ڈی جی ایف آئی اے کا اسلام آباد ایئر پورٹ کا دورہ،کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )سوشل میڈیا پر ایف آئی اے امیگریشن کی کارکردگی سے متعلق غلط فہمیوں کے حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے راجا رفعت مختار نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کا دورہ کیا۔ ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر روزانہ 94 بین الاقوامی پروازوں کی ہینڈلنگ کی جاتی ہے،

یومیہ 10 ہزار سے زائد بین الاقوامی مسافروں کی امیگریشن کلیئرنس ہوتی ہے، مصروف اوقات میں پروازوں کی بیک وقت آمد سے عارضی ہجوم پیدا ہوتا ہے۔13 جنوری کو ایف آئی اے امیگریشن نے ایک گھنٹے میں 2,400 مسافروں کی کلیئرنس مکمل کرنے کا ریکارڈ بنایا، اسلام آباد ائرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن 3 شفٹوں میں کام کر رہی ہے، روانگی کیلئے 15 اور آمد کیلئے 13 امیگریشن کانٹرز فعال ہیں، موسمی حالات اور تکنیکی خرابیوں کے باعث پروازوں میں تاخیر ہجوم کی وجہ بنتی ہے۔ڈی جی ایف ائی اے کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے میں اوسطا 4 مسافر فی منٹ کلیئر کیے گئے، ایف آئی اے اور پی اے اے کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری ہے،

اس موقع پر کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ مرحلہ وار ای گیٹس کے نفاذ پر اتفاق ہوچکا ہے۔ایف آئی اے عملے میں اضافے اور پری ڈیپارچر ایپ کے اجرا کا اعلان بھی کیا گیا، ڈی جی ایف آئی اے نے مسافروں کی رہنمائی کیلئے کیو اسٹاف کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا۔ترجمان کے مطابق کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیاہے، مرحلہ وار ای گیٹس کے نفاذ پر اتفاق کیا گیا ہے۔ایف آئی اے عملے میں اضافے اور پری ڈیپارچر ایپ کے اجرا کا اعلان کیا گیا جب کہ مسافروں کی رہنمائی کے لیے کیو اسٹاف کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریورپ نے امریکہ کے سامنے فوجیں اتار دیں، گرین لینڈ بحران: مغرب کے دوہرے معیار کا امتحان بھارت کا پانی کو سٹریٹجک ہتھیار بنانا بڑا انسانی خطرہ بن سکتا ہے: امریکی جریدہ افوج پاکستان کے خلاف اور ججوں کے کردار پر کوئی بھی بات کرے گا میں اجازت نہیں دوں گا، ایازصادق کراچی: 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کرنے والا سیریل ریپسٹ گرفتار ڈی جی ایف آئی اے کا اسلام آباد ایئرپورٹ دورہ، امیگریشن آپریشنز کا جامع جائزہ وفاقی وزیر داخلہ سے امریکی وفد کی ملاقات، بارڈر سکیورٹی اور سائبر کرائمز میں تعاون پر اتفاق جنگ کے بعد غزہ کے انتظامات کے لیے ٹونی بلیئر اور امریکی فوجی سربراہ کا تقرر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کیو مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ ڈی جی ایف آئی اے اسلام آباد مسافروں کی کیا گیا

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ