امریکی نیوز اینکر نے منفرد موزے جمع کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
امریکی شہر فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ نیوز اینکر جم ڈونوون نے رنگ برنگے موزوں کے شوق کے باعث ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ ان کے پاس موزوں کی 1 ہزار 531 منفرد جوڑیوں کا ذخیرہ موجود ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی موزوں کی کلیکشن تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی شہری نے انگریزی ٹائپنگ کا انوکھا ریکارڈ کس طرح اپنے نام کیا؟
جم ڈونوون کے مطابق دورانِ ملازمت ناظرین نے ان کے رنگین موزوں کو خاص طور پر نوٹس کیا، جس کے بعد مداحوں نے انہیں تحفے کے طور پر نت نئے موزے بھیجنا شروع کر دیے، کئی مداحوں نے تو ایسے موزے بھی ارسال کیے جن پر خود جم ڈونوون کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
View this post on Instagram
A post shared by Guinness World Records (@guinnessworldrecords)
انہوں نے بتایا کہ برسوں کے دوران انہیں ہزاروں کی تعداد میں موزے موصول ہوئے اور یہ شوق آہستہ آہستہ ایک بڑی کلیکشن میں تبدیل ہو گیا۔ ریٹائرمنٹ کے موقع پر اس شوق کو باضابطہ طور پر عالمی ریکارڈ میں تبدیل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی خاتون نے کون سا انوکھا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے؟
جم ڈونوون کا کہنا ہے کہ عالمی ریکارڈ بنانا ان کی زندگی کی خواہشات میں شامل تھا۔ انہوں نے یاد کیا کہ بچپن میں انہیں عالمی ریکارڈز کی کتاب بہت متاثر کرتی تھی اور اسی وقت ان کے دل میں کبھی نہ کبھی کوئی ریکارڈ بنانے کا خیال پیدا ہوا تھا۔
ان کے مطابق یہ اعزاز حاصل کرنا ان کے لیے ذاتی خوشی اور یادگار لمحہ ہے، جو ان کے طویل صحافتی کیریئر کا ایک منفرد اختتام ثابت ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکی نیوز اینکرز جرابیں موزے ورلڈ ریکارڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی نیوز اینکرز ورلڈ ریکارڈ عالمی ریکارڈ جم ڈونوون
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔