حکومت نے 100 سے 5 ہزار روپے تک کے کرنسی نوٹوں کو عالمی سیکیورٹی معیار کے مطابق ڈھالنے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ محض ڈیزائن کی تبدیلی نہیں، بلکہ معیشت میں شفافیت اور استحکام لانے کا ایک بڑا قدم ہے، جس کے اثرات ہر شہری کی جیب پر پڑ سکتے ہیں۔
نئے نوٹوں میں پاکستان کی تاریخ، جغرافیائی خوبصورتی اور خواتین کی ترقی جیسے اہم موضوعات شامل کیے جائیں گے تاکہ یہ عالمی سطح پر ملک کا مثبت چہرہ پیش کریں۔ سب سے بڑی وجہ جعلی نوٹوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کو توڑنا ہے۔ جدید سیکیورٹی فیچرز کی بدولت اب عوام کے لیے اصلی اور نقلی نوٹ کی پہچان آسان ہو جائے گی۔
پرانے نوٹوں کی جگہ نئے نوٹ لانے سے مارکیٹ میں موجود رقم بینکنگ نظام میں واپس آئے گی، جس سے غیر قانونی رقم کا سراغ لگانا آسان ہو گا، ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا اور افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم، اس عمل کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ نئے نوٹ چھاپنے اور پرانے نوٹ جمع کرنے کا عمل مہنگا اور طویل ہو سکتا ہے، بینکوں پر اضافی بوجھ پڑے گا اور عوام میں وقتی بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔
تاریخی مثالوں سے ظاہر ہے کہ یہ اقدامات مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ نے اپنے کاغذی نوٹ پولیمر مواد سے تبدیل کیے، جس سے نوٹوں کی عمر میں اضافہ ہوا اور جعلی نوٹ کم ہوئے۔ یورپی یونین نے 500 یورو کے نوٹ کو ختم کرکے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان کا یہ قدم بھی عالمی رجحان کے مطابق ہے۔ اگر حکومت اس عمل کو شفاف اور منظم طریقے سے مکمل کرتی ہے تو یہ معاشی استحکام کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ 2026 کے آخر تک جب یہ نوٹ مارکیٹ میں آئیں گے، تو عوام کا اعتماد کس حد تک جیت سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل