آغا خان یونیورسٹی کا 38 واں کانووکیشن؛ سیکڑوں طلبہ فارغ التحصیل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) آغا خان یونیورسٹی نے پاکستان میں اپنی 38ویں کانووکیشن کے موقع پر 18 ڈگری پروگرامز سے تعلق رکھنے والے 461 طلبہ کو اسناد سے نوازا اور پرنسس زہرہ آغا خان کو باضابطہ طور پر یونیورسٹی کی پہلی پرو چانسلر کے طور پر مقرر کیا۔ پرو چانسلر کی حیثیت سے پرنسس زہرہ آغا خان آغا خان یونیورسٹی کی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کی رہنمائی کریں گی۔
آغا خان یونیورسٹی کے چانسلرآغا خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ آغا خان یونیورسٹی اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ پر ”ایک غیر معمولی ذمہ داری اور ایک غیر معمولی موقع“عائد ہوتا ہے کہ وہ علم کو تخلیق کریں، اسے پھیلائیں اور ایسے طریقوں سے بروئے کار لائیں جو انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنائیں۔
اس سال انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کے بیچلر آف ایجوکیشن پروگرام کے پہلے بیچ کی گریجویشن بھی عمل میں آئی۔ یہ پروگرام تعلیمی اور عملی تربیت کا ایک جامع امتزاج فراہم کرتا ہے، جو فارغ التحصیل طلبہ کو مختلف تعلیمی ماحول میں مؤثر تدریس کے لیے تیار کرتا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی پرو چانسلر، پرنسس زہرہ آغا خان نے کہا”یونیورسٹی کی جغرافیائی توسیع کے نتیجے میں آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کی موجودگی اب پورے پاکستان میں پہلے سے کہیں زیادہ شہروں اور دیہاتوں تک پھیل چکی ہے۔کراچی سے مٹیاری تک، لاہور سے گلگت تک، یونیورسٹی کے صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، اساتذہ اور محققین عوام کی زندگیوں کا حصہ ہیں۔“
آغا خان یونیورسٹی رسائی اور معیارِ اعلیٰ کے عزم کے ذریعے پاکستان کو درپیش اہم ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ چونکہ رواں سال فارغ التحصیل ہونے والوں میں تقریباً 70 فیصد خواتین شامل ہیں، اس طرح یونیورسٹی ایک ایسے ملک میں صنفی فرق کم کرنے میں عملی کردار ادا کر رہی ہے جہاں لاکھوں بچیاں اب بھی تعلیم سے محروم ہیں۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےطالب علم محمد طٰہٰ نسیم نے آغا خان یونیورسٹی کے اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلبہ کو ” اعلیٰ ترین معیار تک پہنچنے کی ترغیب دی اور یہ سکھایا کہ ہمدردی کے بغیر عمدگی بے معنی ہے۔“
آغا خان یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ ملک میں افرادی قوت کی اہم کمی کو بھی پورا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں نرسوں کا آبادی کے تناسب سے صرف 10 ہزار افراد پر 5.
2025 میں آغا خان یونیورسٹی نے تحقیق کے لیے 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی فنڈنگ حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح کے ادارے اس کی تحقیقی صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کے 27 فیکلٹی اراکین کو اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک محقق کی جانب سے کی گئی معروف تحقیق میں دنیا کے سرفہرست دو فیصد سائنسدانوں میں شامل کیا گیا۔
آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا ” پاکستان کے نوجوان ہمہ گیر اور وسیع النظر سوچ کے حامل ہیں، جو مختلف مذاہب اور نقطۂ نظر کے ساتھ بااعتماد انداز میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایک منقسم معاشرہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں سامنا نہیں کر سکتا۔ ڈیجیٹل طور پر باخبر ہونے کے باعث وہ ٹیکنالوجی کو کسی خلل کے بجائے ایک اہم موقع سمجھتے ہیں، جو انہیں علم میں اضافے، مہارتوں کی تعمیر اور حاصل شدہ علم کو عملی صورت میں بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ محدود مالی وسائل رکھنے والے باصلاحیت طلبہ بھی آغا خان یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر سکیں، یونیورسٹی اپنے طلبہ کی بڑی تعداد کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران پاکستان میں تمام کلاسز اور پروگرامز کے 72 فیصد طلبہ کو مالی امداد دی گئی۔ نورش خان، سیدہ تسیمیہ محی الدین، ڈاکٹر حمزہ جہانزیب اور سارہ کریم صدرالدین کو بالترتیب ڈینٹل ہائجین، ایجوکیشن، میڈیسن اور نرسنگ کے انڈرگریجویٹ پروگرامز میں بہترین گریجویٹ ایوارڈز سے نوازا گیا۔
تقریب میں آغا خان یونیورسٹی کے بانی صدر اور یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شمش قاسم لکھا بھی موجود تھے۔ یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تحت آغا خان یونیورسٹی کی ہم منصب (سسٹر) جامعہ ہے۔
یونیورسٹی نے متعدد فیکلٹی اور اسٹاف اراکین کو بھی اعزازات سے نوازا، جن کے ذریعے جدت، تحقیق اور قیادت کے شعبوں میں ان کی مسلسل خدمات کو سراہا گیا۔ پروفیسر ایمیریٹس مشتاق احمد کو ایک ممتاز سرجن اور علمی رہنما کی حیثیت سے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں صدر کا تمغہ دیا گیا جو آغا خان یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آغا خان یونیورسٹی کے یونیورسٹی کی فارغ التحصیل طلبہ کو
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز