ہم جنریشن زی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ الخدمت 50 سال سے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے اور خدمت کا یہ سلسلہ پورے پاکستان میں جاری ہے، ہم نے اہل فلسطین کو بھی فراموش نہیں کیا اور اب تک اہل فلسطین کیلئے امدادی سامان کی چالیس کھیپ بھجوائی جا چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ الخدمت سماجی خدمات کے 50ویں سال میں داخل، 50 سالہ تقریبات کے سلسلے میں مقامی ہوٹل میں ”سالانہ کانفرنس“ کا اہتمام کیا گیا۔ کانفرنس میں بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سمیت خدمت کے عمل میں شریک تمام اکابرین کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم جنریشن زی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، کمپری ہنسو جنریشن زی کنیکٹ پروگرام پورے ملک میں شروع کریں گے، الخدمت 50 سال سے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے اور خدمت کا یہ سلسلہ پورے پاکستان میں جاری ہے، ہم نے اہل فلسطین کو بھی فراموش نہیں کیا اور اب تک اہل فلسطین کیلئے امدادی سامان کی چالیس کھیپ بھجوائی جا چکی ہے، مولانا مودودی ایک نفیس انسان تھے، جب مسلمان ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تو انہوں نے مہاجرین کی خدمت کی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میں مشکل حالات میں بھی ہم نے لوگوں کی خدمت نہیں چھوڑی، الخدمت پورے پاکستان میں خدمت کے کام کر رہی ہے، خیبر پختونخوا میں سیلاب آیا تو الخدمت کے رضاکاروں نے جان پر کھیل کر خدمت کی، بونیر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں خدمت کرتے ہوئے الخدمت کا رضاکار جان سے گیا، الخدمت کے رضاکاروں نے کورونا کے دنوں میں بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کیا، الخدمت کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کو جس مد میں فنڈ ملتا ہے، اسی مد میں خرچ کیا جاتا ہے، الخدمت عوام کا دیا پیسہ شفاف طریقے سے لوگوں پر خرچ کرتی ہے، الخدمت کے کام کو بہت وسیع کرنا چاہتے ہیں، ملک بھر میں 58 ہزار رضاکار بن چکے ہیں، جن میں طلبہ و طالبات شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اہل فلسطین خدمت کے کی خدمت
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :