مسلم خاندانوں کے پتے پر ہندو و رائے دہندگان کے نام، انتظامیہ کی جانچ شروع
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
صغیر خان نے انتظامیہ کو تحریری شکایت جمع کرائی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے قبل ووٹر لسٹ درست تھی، تاہم ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع ہونے کے بعد خامیوں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اترپردیش میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)کے تحت جاری مسودہ ووٹر لسٹ میں کئی گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں۔ بلند شہر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد ضلع انتظامیہ نے جمعرات (15 جنوری) کو جانچ شروع کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب شکارپور تحصیل کے پہاڑی قصبے کے پٹھان ٹولہ علاقے کے متعدد رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پتے پر ایسے ووٹروں کے نام شامل کئے جا رہے ہیں جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔
اس سلسلے میں مقامی رہائشی صغیر خان نے انتظامیہ کو تحریری شکایت جمع کرائی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے قبل ووٹر لسٹ درست تھی، تاہم ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع ہونے کے بعد خامیوں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ صغیر خان نے کہا کہ چھ سے زائد مسلم خاندانوں کے پتے پر 56 ہندو ووٹروں کو رجسٹرڈ دکھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کم از کم آٹھ گھروں میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ میرے اپنے گھر، جس کا مکان نمبر 125 میں، کم از کم سات نئے نام شامل کئے گئے ہیں، سب ہندو ہیں۔ ہمارے علاقے کے آٹھ دیگر گھروں میں بھی رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہمارے علاقے سے تقریباً 56 ووٹر کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اس معاملہ کے سامنے آنے کے بعد شکارپور کے ایس ڈی ایم ارون کمار نے کہا کہ ڈرافٹ لسٹ میں تضادات پائے گئے ہیں۔ 307 معاملوں میں فارم 8 کے ذریعے تصحیح کی جا رہی ہے اور تمام حقیقی شکایات کو تصدیق کے بعد حل کیا جائے گا۔ ارون کمار نے کہا کہ تفتیش جاری ہے، اس فعل کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ "ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں غلطیوں سے متعلق ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں"۔
الیکشن کمیشن کے مطابق فارم 8 ووٹر لسٹ میں درج تفصیلات کی درستگی کے لئے ایک درخواست ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل اترپردیش کے گورکھپور ضلع میں ایس آئی آر کے تحت جاری ووٹر لسٹ کے مسودے کے اعداد و شمار میں تضادات پائے گئے تھے۔ شہر کے وارڈ نمبر 16 میں ایک ہی ہاؤس نمبر کے تحت 233 ووٹرز رجسٹرڈ پائے گئے۔ ان میں ہندو، مسلمان اور سکھ سمیت مختلف برادریوں کے لوگ اور مختلف خاندانوں کے لوگ شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس آئی آر نے کہا کہ انہوں نے ووٹر لسٹ گیا ہے کے بعد
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔