سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا کامیاب انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا کامیاب انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )سی ڈی اے کے زیرِ اہتمام کمیونٹی آرگینک مارکیٹ کا کامیاب انعقاد ایف-7 گول مارکیٹ میں کیا گیا، جسے شہریوں خصوصا خاندانوں کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کمیونٹی مارکیٹ کا مقصد شہریوں کو صحت مند، قدرتی اور معیاری اشیائے خورونوش تک رسائی فراہم کرنا تھا۔ مارکیٹ میں مختلف آرگینک اسٹالز کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے تفریحی و تعلیمی سرگرمیوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا، جس سے بچوں اور والدین دونوں نے بھرپور لطف اٹھایا۔شرکا نے اس اقدام کو نہ صرف خوش آئند قرار دیا بلکہ اسے خاندانی تفریح اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم بھی کہا۔
والدین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں بچوں میں سماجی شعور پیدا کرنے اور خاندانوں کو ایک محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سی ڈی اے کے مطابق اس سرگرمی کا بنیادی مقصد صحت مند کمیونٹی بلڈنگ کو فروغ دینا اور خاندانوں کو پارکس اور عوامی مقامات کی جانب راغب کرنا ہے، تاکہ شہری صحت مند ماحول میں باہمی میل جول کو فروغ دے سکیں۔ سی ڈی اے آئندہ بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے تاکہ اسلام آباد کو ایک صحت مند، متحرک اور خاندانی دوست شہر بنایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ و دیگر اہم شخصیات کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت چیئرمین سینیٹ و دیگر اہم شخصیات کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت ٹرمپ نے کن 2 مسلم سربراہان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی؟ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہیں بھیجیں گے، بنگلادیش اپنے موقف پر ڈٹ گیا گورننگ کونسل اجلاس :محسن نقوی نے پی ایس ایل کھلاڑیوں کے معاوضے بڑھانے کا مشورہ دیدیا پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان غزہ بھر میں اسرائیلی حملے جاری، جنگ بندی کے باوجود درجنوں فلسطینی شہیدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے کے مارکیٹ کا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :