افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی: طالبان حکومت بننے سے بہتری کا خیال غلط نکلا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی پالیسی اور سلامتی کی صورتحال ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد اسلامی امارتِ افغانستان کی کھل کر حمایت کی۔
مزید پڑھیں: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
اسلام آباد نے اشرف غنی حکومت کے خاتمے کو افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے بعد اپنے اسٹریٹجک مفادات کے فروغ کا موقع سمجھا اور یہ تصور کیاکہ کابل میں دوستانہ حکومت بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کر سکے گی۔
اسی تناظر میں پاکستان نے اپنا سفارت خانہ کھلا رکھا، نیٹو افواج کے انخلا کے دوران لوگوں کی مدد کی اور عالمی برادری کو افغانستان میں انسانی امداد فراہم کرنے پر آمادہ کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔
تاہم ساڑھے چار برس گزرنے کے باوجود پاکستان کو اس حمایت کا خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہو سکا، بلکہ اب وہ طالبان کی جانب سے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکامی کا سب سے بڑا اور براہِ راست متاثرہ ملک بن چکا ہے۔
پاکستان دہشتگردی سے پہلے ہی شدید نقصانات اٹھا چکا ہے۔ ’وار آن ٹیرر‘ کے آغاز سے اب تک 80 ہزار سے زیادہ افراد، جن میں سیکیورٹی اہلکار، شہری اور بچے شامل ہیں، دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔
2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ اس کی سب سے المناک مثال ہے، جس میں 132 طلبہ جان سے گئے۔ انفراسٹرکچر کی تباہی، سرمایہ کاری میں کمی اور طویل المدتی معاشی نقصانات کے باعث پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔
اسلام آباد کا خیال تھا کہ طالبان کی واپسی کے بعد تشدد میں کمی آئے گی، لیکن اس کے برعکس سرحد پار حملوں میں اضافہ ہوا، جن کی بڑی تعداد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسوب کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ اور امریکی ادارے سمیت مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق طالبان کی مفاہمتی پالیسی اور نظریاتی ہم آہنگی کے باعث دہشتگرد گروہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔
اندازوں کے مطابق افغانستان میں 6 ہزار سے ساڑھے 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں، جب کہ القاعدہ اور داعش خراسان کے عناصر بھی وہاں فعال ہیں۔
پاکستان کے لیے ایک اور تشویشناک پہلو دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔ سال 2025 میں پاکستان نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 220 افغان شہری شامل تھے۔
حکام کے مطابق 2022 میں جہاں افغان شہریوں کی شمولیت ایک ہندسے تک محدود تھی، وہ اب بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ابتدائی طور پر پاکستان نے کشیدگی سے بچنے کے لیے محتاط اور رابطوں پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی۔ دوطرفہ مذاکرات، مذہبی ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کے ذریعے کابل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ چین، روس اور خلیجی ممالک کی شمولیت سے ہونے والے فورمز میں طالبان کو دوحہ معاہدے کی پاسداری پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو سرحدی علاقوں سے منتقل کرنے پر بھی اتفاق ہوا، تاہم یہ وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی اور سرحد سے دور منتقل کرنے کے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث اسلام آباد کا صرف مذاکرات پر انحصار کمزور پڑتا گیا۔
اس صورتحال میں طالبان حکومت کی عالمی سطح پر بتدریج قبولیت نے پاکستان کی تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اب تک صرف روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیا ہے، تاہم افغانستان نے 39 ممالک میں سفارتی موجودگی قائم کرلی ہے۔
پاکستان کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر یہ قبولیت طالبان کو مزید بے خوف بنا رہی ہے اور اسلام آباد کے تحفظات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتے روابط بھی پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ بھارت نے کابل میں دوبارہ سفارتی سرگرمیاں شروع کیں، انسانی امداد میں اضافہ کیا اور 2025 میں طالبان قیادت سے سیاسی روابط کو وسعت دی۔
افغان عبوری وزیر خارجہ کا بھارت کا دورہ اور طالبان کے نامزد سفیر کو قبول کرنا دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہیں۔
پاکستان میں ان پیشرفتوں کو تاریخی اور اسٹریٹجک زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں افغانستان اور بھارت کے قریبی تعلقات کو طویل عرصے سے اسٹریٹجک گھیراؤ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
سیکیورٹی حلقوں کے مطابق یہ صورتحال پاکستان کے مغربی محاذ پر چیلنجز میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
سفارتی کوششوں کی ناکامی کے بعد پاکستان نے اپنی افغان پالیسی پر نظرثانی شروع کردی ہے، جسے حکام ’ٹو ڈی اسٹریٹجی‘ یعنی ڈیٹرنس اور ڈائیلاگ قرار دے رہے ہیں۔
اس حکمتِ عملی کے تحت مذاکرات کے ساتھ ساتھ محدود اور ہدفی فوجی کارروائی کو بھی بطور دباؤ استعمال کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹی پی افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، ٹھوس شواہد موجود ہیں: علی امین گنڈا پور
ستمبر اور اکتوبر 2025 میں پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور کمانڈ اسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے، جب کہ قیادت کو نشانہ بنانے کی ایک کوشش بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں سفارتی رابطے بھی جاری رکھے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا فوجی دباؤ اور سفارتی مکالمے کا یہ امتزاج طالبان کے رویے میں کوئی ٹھوس تبدیلی لا سکے گا یا نہیں، اور پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس حکمتِ عملی میں توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام اباد افغان طالبان پاکستان میں دہشتگردی ٹی ٹی پی مذاکرات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد افغان طالبان پاکستان میں دہشتگردی ٹی ٹی پی مذاکرات وی نیوز افغانستان میں طالبان حکومت پاکستان میں اسلام آباد پاکستان نے میں طالبان پاکستان کے طالبان کے کے مطابق ٹی ٹی پی کے لیے کے بعد
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔