افریقی ممالک میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی؛ 100 سے زائد ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
براعظم افریقا کے تین بڑے ممالک میں ہونے والی شدید موسلا دھار بارشوں اور تباہ کن سیلاب سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے سے جاری طوفانی بارشوں سے جنوبی افریقا، موزمبیق اور زمبابوے میں دریاؤں میں طغیانی آگئی۔
دریا ابل پڑے اور سیلابی ریلے نے رہائشی علاقوں میں داخل ہوکر ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں، پل پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔ ٹرانسپورٹ اور بجلی کا نظام معطل ہوگیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید شدید موسم اور تباہی کا خدشہ برقرار ہے۔
امدادی کاموں کے لیے فوجی ہیلی کاپٹرز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جنوبی افریقا کے شمالی صوبوں لیمپوپو اور امپومالانگا میں سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سیلابی پانی کے باعث زمبابوے سے ملحقہ سرحدی چیک پوسٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
جنوبی افریقا کے پڑوسی ملک زمبابوے میں بھی قدرتی آفات نے تباہی مچادی جس میں اب تک کم از کم 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
زمبابوے میں سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد گھر تباہ، جب کہ اسکول، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے ہیں۔
موزمبیق میں بھی سیلاب سے حالات مختلف نہیں ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد 20 سے زائد ہیں جب کہ مختلف شہروں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے بقول ان تین ممالک میں دو لاکھ سے زائد افراد متاثر، ہزاروں مکانات تباہ اور 70 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی زمین زیرِ آب آ چکی ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے خوراک کی قلت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ان چھوٹے کسانوں کے لیے جو پہلے ہی غربت اور بار بار آنے والے سمندری طوفانوں سے متاثر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔