Jasarat News:
2026-06-03@05:40:50 GMT

کیا سیاست آئیڈیلز کے حصول کے لیے نہیں ہوتی؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260118-03-8

 

شاہنواز فاروقی

فیض احمد فیض کا ایک شعر ہے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوانہ تھے

فیض کا یہ شعر پاکستانی معاشرے پر پورا منطبق ہوتا ہے۔ اس لیے کہ پاکستانی معاشرہ دکھوں اور ناکامیوں سے بھر گیا ہے اور زندگی کے کسی بھی دائرے میں ’’چارہ گر‘‘ چارہ گری کے لیے موجود نہیں۔ علما کا کام دین کی تعلیم دینا تھا مگر وہ دین کے بجائے فرقوں اور مسلکوں کی تعلیم دے رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو قومی وحدت پیدا کرنی تھی مگر وہ پنجابیت، سندھیت، مہاجریت اور پشتونیت کی سیاست کررہے ہیں۔ جرنیلوں کو ملک کا دفاع کرنا تھا مگر وہ پورے ملک پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ دانش وروں اور صحافیوں کا کام قوم کی رہنمائی تھا مگر وہ قوم کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر دانش ور اور صحافی پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ ’’اسلام پسند‘‘ صحافیوں کو مذہب اور زندگی کی الف ب بھی معلوم نہیں۔ ہمارے بھائی خورشید ندیم بھی ایسے ہی دانش ور ہیں۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ ’’آئیڈیلزم‘‘ کی تاریخ ہے مگر خورشید ندیم صاحب کا فرمانا یہ ہے کہ سیاست کا آئیڈیلزم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں۔

’’سیاست دیواروں سے ٹکرانے کا نہیں‘ بند دروازے کھولنے کا نام ہے۔ یہ کام طاقت نہیں‘ تدبیر کا مطالبہ کرتا ہے۔ سیاسی تدبیر مکالمے سے عبارت ہے۔ سیاست آئیڈیلز کے حصول کے لیے نہیں ہوتی‘ یہ موجود سیاسی وسماجی ماحول میں کسی ایسے حل کی تلاش ہے جو تصادم سے بچتے ہوئے‘ سماج کو جمود سے نکال سکے۔ سیاست اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے‘ دوسروں کے وجود کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ سیاست حق وباطل میں فیصلہ کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ نظریاتی سیاست کے دور میں سماج کو اسی طرح تقسیم کیا گیا کہ اقتدار کی سیاست کو حق وباطل کا معرکہ بنا دیا گیا۔ عام آدمی اس مخمصے میں رہا کہ ایک ہی مسجد میں ایک ساتھ نماز پڑھنے والوں میں کفر اور اسلام کی بنیاد پر کیسے فرق کرے؟

بدقسمتی سے سیاست کو آج ایک بار پھر حق وباطل کے درمیان جنگ بنا دیا گیا ہے۔ یہ صرف پیغمبر کی موجودگی میں ہوتا ہے کہ لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کے کھیل میں یہ تقسیم نہیں ہوتی۔ آپ کے خیال میں آپ کا موقف درست ہو سکتا ہے دوسرے کے خیال میں ان کی بات قرین بالصواب ہے۔ دونوں اپنا اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور وہ کسی ایک کے حق میں فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جمہوریت کی روح یہی ہے۔ اسی لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ سیاسی معاملات کے لیے سیاسی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ (روزنامہ دنیا، 10 جنوری 2026)

رسول اکرمؐ صرف رسول نہیں تھے وہ ریاست مدینہ کے بانی اور اس کے حکمران بھی تھے۔ چنانچہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا سیاسی آئیڈیل خود رسول اکرمؐ کی ذات اور آپؐ کا نمونہ سیاست و ریاست ہے۔ مگر بدقسمتی سے غامدیانہ فکر کے زیر اثر خورشید ندیم کا تصور رسالت بھی ناقص ہے۔ رسول اکرمؐ کی رسالت اور نمونۂ عمل ’’لا زمانی‘‘ ہے مگر خورشید ندیم اسے ’’زمانی‘‘ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اب چونکہ ہمارے درمیان رسول موجود نہیں اس لیے اب ہماری سیاست آئیڈیلزم سے بے نیاز ہوسکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ خلفائے راشدین کی پوری سیاست رسول اکرمؐ کے سیاسی نمونۂ عمل کی پیروی کے سوا کیا تھی؟ خلفائے راشدین نے جنگ کی تو رسول اکرمؐ کے نمونۂ فکر و عمل کے مطابق امن قائم کیا تو رسول اکرمؐ کے نمونۂ عمل کے اتباع کے دائرے میں۔ انہوں نے مسلمانوں اور انسانوں کی خدمت کی تو رسول اکرمؐ کے پیدا کردہ آئیڈیلز کے مطابق۔ خلافت ختم ہوئی تو ملوکیت آگئی اور اسے دنیا کا ہر باشعور مسلمان رسول اکرمؐ کے نمونۂ فکر و عمل سے ایک بہت بڑا انحراف سمجھتا ہے۔ اتفاق سے ملوکیت میں بھی بعض ایسے نمونے مل جاتے ہیں جو اسلام کے سیاسی آئیڈیلز کے بہت قریب تھے۔ مثلاً کہنے کو اورنگ زیب عالمگیر ایک بادشاہ تھا مگر اس کے دربار پر علما کا غلبہ تھا اور اورنگ زیب علما کے مشورے کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھاتا تھا۔ دوسری طرف اس کا بھائی داراشکوہ تھا جو ہندو ازم سے متاثر تھا اور گیتا کو قرآن سے بڑی کتاب قرار دیتا تھا۔ اورنگ زیب اور داراشکوہ کی کشمکش میں علما اورنگ زیب کے ساتھ تھے اس لیے کہ وہ اسلامی سیاست کے آئیڈیلز کے زیادہ قریب تھا۔ جہاں تک مسلمانوں کے سیاسی آئیڈیلز کے زوال کا تعلق ہے تو اس کی پیش گوئی خود رسول اکرمؐ نے فرما دی تھی۔ آپؐ کی حدیث ہے کہ میرا زمانہ رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ ہوگی اور اس کا عہد رہے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا غلبہ ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی اور اس کا دور دورہ رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوہ کے تجربے کی جانب پلٹے گی۔ زیر بحث موضوع کے حوالے سے اس حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ آئیڈیلز سے محروم ہو کر بالآخر ایک بار پھر ’’آئیڈیلز‘‘ سے ہمکنار ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آئیڈیلز سے محروم سیاست مسلمانوں کا عہد ِ زوال ہے اور صرف آئیڈیلز سے ہمکنار سیاست اللہ اور اس کے رسول کی پسندیدہ ہے۔

دیکھا جائے تو اقبال کی شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ ’’اسلامی آئیڈیلزم‘‘ کا ترجمان ہے۔ خاص طور پر اقبال کا ’’مردِ مومن‘‘۔ اقبال نے کہا ہے۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہے آفاق

٭٭

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

٭٭

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

ہمسایۂ جبریلِ امیں بندئہ خاکی

ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

چونکہ اسلام ’’لا زمانی‘‘ ہے اس لیے اقبال کا تصورِ مومن بھی ’’لا زمانی‘‘ ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ غزوۂ بدر میں 313 صحابہ کرام کافروں کے مقابلے کے لیے اُترے تو ان میں سے چند کے پاس تلواریں اور زرہیں تھیں۔ مسلمانوں کے پاس صرف ایک گھوڑا اور چند اونٹ تھے۔ دوسری طرف کفار کا لشکر اسلحے سے لیس تھا مگر اس کے باوجود ’’مومنوں‘‘ کی سازو سامان سے محروم فوج ہر طرح کے اسلحے سے لیس کافروں کی فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔ غزوۂ بدر کی یہ روایت پہلے 20 ویں صدی کے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف دہرائی گئی جب مجاہدین نے وقت کی سپر پاور سوویت یونین کو شکست دی۔ پھر 21 ویں صدی میں طالبان نے غزوۂ بدر کی روایت کو دہرایا۔ انہوں نے وقت کی واحد سپر پاور امریکا کو شکست فاش دی اور اب غزہ کے مجاہدین نے دو سال تک اسرائیل کے ساتھ پنجہ آزمائی کرکے اسے مذاکرات پر مجبور کیا۔ کیا اقبال کا یہ شعر اب بھی لوگوں کو ’’خیالی پلائو‘‘ محسوس ہوتا ہے۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

ریاست و سیاست کا ’’آئیڈیلزم‘‘ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ خدا اور مذہب کے منکروں نے بھی پوری شدت کے ساتھ آئیڈلزم کو گلے لگایا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال روس کا سوشلسٹ انقلاب ہے۔ اس انقلاب نے روس کے زمین و آسمان بدل ڈالے۔ انقلاب سے پہلے روس ایک بیمار ریاست اور ایک بیمار معاشرہ تھا مگر لینن نے اس بیمار ریاست اور بیمار معاشرے کو سوشلسٹ آئیڈیلزم کی بنیاد پر ’’انقلابی‘‘ بنادیا۔ اس انقلاب نے روس کے ہر شہری کو تعلیم یافتہ بنادیا۔ اس ریاست میں کوئی شخص بیروزگار نہیں تھا۔ ہر شخص کو صحت اور رہائش کی سہولت میسر تھیں۔

باقی صفحہ7نمبر1

شاہنواز فاروقی

روس کا سب سے بڑا اخبار ’’پراودا‘‘ تھا اس کی یومیہ اشاعت 2 کروڑ تھی۔ روس کا دوسرا بڑا اخبار ’’ایزوستیا‘‘ تھا اس کی یومیہ اشاعت ڈیڑھ کروڑ تھی۔ سوشلسٹ انقلاب سے پہلے روس ایک ناقابل ذکر ریاست تھا، سوشلزم کے آئیڈیل نے اسے دنیا کی دوسری سپر پاور بنادیا۔ روس کے سوشلسٹ آئیڈیل نے دیکھتے ہی دیکھتے آدھی دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

چین کے سوشلسٹ انقلاب سے پہلے چینی قوم افیون کھانے والی قوم تھی۔ ایسی قوم جس کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔ اس کے پاس نہ تعلیم تھی، نہ صنعتی ڈھانچہ تھا، اس کے پاس زراعت تھی مگر پسماندہ۔ مگر مائو کے سوشلسٹ آئیڈیل نے چین میں انقلاب برپا کردیا۔ افیون کھانے والے چینی ’’انقلابی‘‘ بن گئے۔ آج چین کا یہ حال ہے کہ اس نے 40 سال میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 4000 ارب ڈالر ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ دنیا میں چین کے محققین کے مقالوں کی دھوم ہے اور اس سلسلے میں چین نے امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین مائو کے سوشلسٹ آئیڈیل کو گلے نہ لگاتا تو وہاں کبھی انقلاب برپا نہ ہوتا اور آج چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی اور تیسری بڑی فوجی طاقت نہ ہوتا۔

بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی سے کسی انٹرویو کرنے والے نے پوچھا کہ آپ کے والد پنڈت جواہر لعل نہرو اور آپ کے درمیان کیا فرق ہے۔ اندرا گاندھی نے کہا کہ میرے والد ایک خواب دیکھنے والے تھے جبکہ میں حقیقت پسند ہوں۔ یہ بات سو فی صد درست ہے۔ نہرو واقعتا خواب دیکھنے والے تھے اور ہر خواب دیکھنے والا ’’Idealist‘‘ ہوتا ہے۔ آج بھارت میں جو مضبوط جمہوریت ہے وہ پنڈت نہرو کے آئیڈیل ازم کا حاصل ہے۔ بھارت کی پارلیمان نہرو کا تحفہ ہے۔ بھارت کی تمام بھاری صنعتیں نہرو کے آئیڈیلزم کا عکس ہیں۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس کے تحت انہوں نے پاکستان کے ساتھ اقلیتوں کے تحفظ کا معاہدہ کیا۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس کے تحت وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس نے بھارت کے آئین میں اردو کو ایک قومی زبان کا درجہ دلایا۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس کے تحت انہوں نے اپنی بہن وجے لکشمی پنڈت کی ایک مسلمان کے ساتھ شادی پر اعتراض نہ کیا۔ نہرو اسلامی تہذیب اور مسلمانوں سے حد درجہ متاثر تھے۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت نہرو کے دوست جوش ملیح آبادی کا ایک انٹرویو ہے۔ انٹرویو میں جوش سے پوچھا گیا کہ نہرو نے ان سے مسلمانوں کے بارے میں کیا کہا تھا؟ جوش نے بتایا کہ نہرو نے فرمایا کہ میں دوست کی حیثیت سے ہندو کی بنسبت مسلمانوں پر زیادہ اعتبار کرتا ہوں۔ اس لیے کہ مسلمان ایک جذباتی قوم ہیں، جذباتی قوم سے زیادہ وفاداری کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ میں ہندو کی محبت پر اعتبار نہیں کرتا۔ اس لیے کہ ہندو آنہ پائی میں سوچنے والی قوم ہیں۔ اس پر جوش نے نہرو سے کہا کہ میرا ایک ایسا ہندو دوست ہے جو آنہ پائی میں نہیں سوچتا۔ نہرو نے یہ سن کر کہا آپ تحقیق کیجیے وہ کسی مسلمان کا بیٹا ہوگا۔ (جوش ملیح آبادی۔ انٹرویوز اور مکالمات، صفحہ 504)

 

شاہنواز فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشلسٹ ا ئیڈیل مسلمانوں کے ا ئیڈیلز کے کے سوشلسٹ ا کے ا ئیڈیل اورنگ زیب نہیں ہوتی رسول اکرم اس کے بعد اس لیے کہ انہوں نے گا جب تک تھا مگر ہوتا ہے سیاست ا کے ساتھ کے پاس اور اس کے لیے مگر وہ کا ایک

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی