Jasarat News:
2026-07-24@13:34:50 GMT

کیا سیاست آئیڈیلز کے حصول کے لیے نہیں ہوتی؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260118-03-8

 

شاہنواز فاروقی

فیض احمد فیض کا ایک شعر ہے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوانہ تھے

فیض کا یہ شعر پاکستانی معاشرے پر پورا منطبق ہوتا ہے۔ اس لیے کہ پاکستانی معاشرہ دکھوں اور ناکامیوں سے بھر گیا ہے اور زندگی کے کسی بھی دائرے میں ’’چارہ گر‘‘ چارہ گری کے لیے موجود نہیں۔ علما کا کام دین کی تعلیم دینا تھا مگر وہ دین کے بجائے فرقوں اور مسلکوں کی تعلیم دے رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو قومی وحدت پیدا کرنی تھی مگر وہ پنجابیت، سندھیت، مہاجریت اور پشتونیت کی سیاست کررہے ہیں۔ جرنیلوں کو ملک کا دفاع کرنا تھا مگر وہ پورے ملک پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ دانش وروں اور صحافیوں کا کام قوم کی رہنمائی تھا مگر وہ قوم کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا مگر دانش ور اور صحافی پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ ’’اسلام پسند‘‘ صحافیوں کو مذہب اور زندگی کی الف ب بھی معلوم نہیں۔ ہمارے بھائی خورشید ندیم بھی ایسے ہی دانش ور ہیں۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ ’’آئیڈیلزم‘‘ کی تاریخ ہے مگر خورشید ندیم صاحب کا فرمانا یہ ہے کہ سیاست کا آئیڈیلزم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں۔

’’سیاست دیواروں سے ٹکرانے کا نہیں‘ بند دروازے کھولنے کا نام ہے۔ یہ کام طاقت نہیں‘ تدبیر کا مطالبہ کرتا ہے۔ سیاسی تدبیر مکالمے سے عبارت ہے۔ سیاست آئیڈیلز کے حصول کے لیے نہیں ہوتی‘ یہ موجود سیاسی وسماجی ماحول میں کسی ایسے حل کی تلاش ہے جو تصادم سے بچتے ہوئے‘ سماج کو جمود سے نکال سکے۔ سیاست اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے‘ دوسروں کے وجود کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ سیاست حق وباطل میں فیصلہ کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ نظریاتی سیاست کے دور میں سماج کو اسی طرح تقسیم کیا گیا کہ اقتدار کی سیاست کو حق وباطل کا معرکہ بنا دیا گیا۔ عام آدمی اس مخمصے میں رہا کہ ایک ہی مسجد میں ایک ساتھ نماز پڑھنے والوں میں کفر اور اسلام کی بنیاد پر کیسے فرق کرے؟

بدقسمتی سے سیاست کو آج ایک بار پھر حق وباطل کے درمیان جنگ بنا دیا گیا ہے۔ یہ صرف پیغمبر کی موجودگی میں ہوتا ہے کہ لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کے کھیل میں یہ تقسیم نہیں ہوتی۔ آپ کے خیال میں آپ کا موقف درست ہو سکتا ہے دوسرے کے خیال میں ان کی بات قرین بالصواب ہے۔ دونوں اپنا اپنا موقف عوام کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور وہ کسی ایک کے حق میں فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جمہوریت کی روح یہی ہے۔ اسی لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ سیاسی معاملات کے لیے سیاسی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ (روزنامہ دنیا، 10 جنوری 2026)

رسول اکرمؐ صرف رسول نہیں تھے وہ ریاست مدینہ کے بانی اور اس کے حکمران بھی تھے۔ چنانچہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا سیاسی آئیڈیل خود رسول اکرمؐ کی ذات اور آپؐ کا نمونہ سیاست و ریاست ہے۔ مگر بدقسمتی سے غامدیانہ فکر کے زیر اثر خورشید ندیم کا تصور رسالت بھی ناقص ہے۔ رسول اکرمؐ کی رسالت اور نمونۂ عمل ’’لا زمانی‘‘ ہے مگر خورشید ندیم اسے ’’زمانی‘‘ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اب چونکہ ہمارے درمیان رسول موجود نہیں اس لیے اب ہماری سیاست آئیڈیلزم سے بے نیاز ہوسکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ خلفائے راشدین کی پوری سیاست رسول اکرمؐ کے سیاسی نمونۂ عمل کی پیروی کے سوا کیا تھی؟ خلفائے راشدین نے جنگ کی تو رسول اکرمؐ کے نمونۂ فکر و عمل کے مطابق امن قائم کیا تو رسول اکرمؐ کے نمونۂ عمل کے اتباع کے دائرے میں۔ انہوں نے مسلمانوں اور انسانوں کی خدمت کی تو رسول اکرمؐ کے پیدا کردہ آئیڈیلز کے مطابق۔ خلافت ختم ہوئی تو ملوکیت آگئی اور اسے دنیا کا ہر باشعور مسلمان رسول اکرمؐ کے نمونۂ فکر و عمل سے ایک بہت بڑا انحراف سمجھتا ہے۔ اتفاق سے ملوکیت میں بھی بعض ایسے نمونے مل جاتے ہیں جو اسلام کے سیاسی آئیڈیلز کے بہت قریب تھے۔ مثلاً کہنے کو اورنگ زیب عالمگیر ایک بادشاہ تھا مگر اس کے دربار پر علما کا غلبہ تھا اور اورنگ زیب علما کے مشورے کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھاتا تھا۔ دوسری طرف اس کا بھائی داراشکوہ تھا جو ہندو ازم سے متاثر تھا اور گیتا کو قرآن سے بڑی کتاب قرار دیتا تھا۔ اورنگ زیب اور داراشکوہ کی کشمکش میں علما اورنگ زیب کے ساتھ تھے اس لیے کہ وہ اسلامی سیاست کے آئیڈیلز کے زیادہ قریب تھا۔ جہاں تک مسلمانوں کے سیاسی آئیڈیلز کے زوال کا تعلق ہے تو اس کی پیش گوئی خود رسول اکرمؐ نے فرما دی تھی۔ آپؐ کی حدیث ہے کہ میرا زمانہ رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ ہوگی اور اس کا عہد رہے گا جب تک اللہ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد ملوکیت ہوگی اور اس کا غلبہ ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی آمریت ہوگی اور اس کا دور دورہ رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ اس کے بعد دنیا ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوہ کے تجربے کی جانب پلٹے گی۔ زیر بحث موضوع کے حوالے سے اس حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ آئیڈیلز سے محروم ہو کر بالآخر ایک بار پھر ’’آئیڈیلز‘‘ سے ہمکنار ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آئیڈیلز سے محروم سیاست مسلمانوں کا عہد ِ زوال ہے اور صرف آئیڈیلز سے ہمکنار سیاست اللہ اور اس کے رسول کی پسندیدہ ہے۔

دیکھا جائے تو اقبال کی شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ ’’اسلامی آئیڈیلزم‘‘ کا ترجمان ہے۔ خاص طور پر اقبال کا ’’مردِ مومن‘‘۔ اقبال نے کہا ہے۔

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہے آفاق

٭٭

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

٭٭

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان

گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

ہمسایۂ جبریلِ امیں بندئہ خاکی

ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

چونکہ اسلام ’’لا زمانی‘‘ ہے اس لیے اقبال کا تصورِ مومن بھی ’’لا زمانی‘‘ ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ غزوۂ بدر میں 313 صحابہ کرام کافروں کے مقابلے کے لیے اُترے تو ان میں سے چند کے پاس تلواریں اور زرہیں تھیں۔ مسلمانوں کے پاس صرف ایک گھوڑا اور چند اونٹ تھے۔ دوسری طرف کفار کا لشکر اسلحے سے لیس تھا مگر اس کے باوجود ’’مومنوں‘‘ کی سازو سامان سے محروم فوج ہر طرح کے اسلحے سے لیس کافروں کی فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔ غزوۂ بدر کی یہ روایت پہلے 20 ویں صدی کے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف دہرائی گئی جب مجاہدین نے وقت کی سپر پاور سوویت یونین کو شکست دی۔ پھر 21 ویں صدی میں طالبان نے غزوۂ بدر کی روایت کو دہرایا۔ انہوں نے وقت کی واحد سپر پاور امریکا کو شکست فاش دی اور اب غزہ کے مجاہدین نے دو سال تک اسرائیل کے ساتھ پنجہ آزمائی کرکے اسے مذاکرات پر مجبور کیا۔ کیا اقبال کا یہ شعر اب بھی لوگوں کو ’’خیالی پلائو‘‘ محسوس ہوتا ہے۔

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

ریاست و سیاست کا ’’آئیڈیلزم‘‘ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ خدا اور مذہب کے منکروں نے بھی پوری شدت کے ساتھ آئیڈلزم کو گلے لگایا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال روس کا سوشلسٹ انقلاب ہے۔ اس انقلاب نے روس کے زمین و آسمان بدل ڈالے۔ انقلاب سے پہلے روس ایک بیمار ریاست اور ایک بیمار معاشرہ تھا مگر لینن نے اس بیمار ریاست اور بیمار معاشرے کو سوشلسٹ آئیڈیلزم کی بنیاد پر ’’انقلابی‘‘ بنادیا۔ اس انقلاب نے روس کے ہر شہری کو تعلیم یافتہ بنادیا۔ اس ریاست میں کوئی شخص بیروزگار نہیں تھا۔ ہر شخص کو صحت اور رہائش کی سہولت میسر تھیں۔

باقی صفحہ7نمبر1

شاہنواز فاروقی

روس کا سب سے بڑا اخبار ’’پراودا‘‘ تھا اس کی یومیہ اشاعت 2 کروڑ تھی۔ روس کا دوسرا بڑا اخبار ’’ایزوستیا‘‘ تھا اس کی یومیہ اشاعت ڈیڑھ کروڑ تھی۔ سوشلسٹ انقلاب سے پہلے روس ایک ناقابل ذکر ریاست تھا، سوشلزم کے آئیڈیل نے اسے دنیا کی دوسری سپر پاور بنادیا۔ روس کے سوشلسٹ آئیڈیل نے دیکھتے ہی دیکھتے آدھی دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

چین کے سوشلسٹ انقلاب سے پہلے چینی قوم افیون کھانے والی قوم تھی۔ ایسی قوم جس کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔ اس کے پاس نہ تعلیم تھی، نہ صنعتی ڈھانچہ تھا، اس کے پاس زراعت تھی مگر پسماندہ۔ مگر مائو کے سوشلسٹ آئیڈیل نے چین میں انقلاب برپا کردیا۔ افیون کھانے والے چینی ’’انقلابی‘‘ بن گئے۔ آج چین کا یہ حال ہے کہ اس نے 40 سال میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 4000 ارب ڈالر ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ دنیا میں چین کے محققین کے مقالوں کی دھوم ہے اور اس سلسلے میں چین نے امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین مائو کے سوشلسٹ آئیڈیل کو گلے نہ لگاتا تو وہاں کبھی انقلاب برپا نہ ہوتا اور آج چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی اور تیسری بڑی فوجی طاقت نہ ہوتا۔

بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی سے کسی انٹرویو کرنے والے نے پوچھا کہ آپ کے والد پنڈت جواہر لعل نہرو اور آپ کے درمیان کیا فرق ہے۔ اندرا گاندھی نے کہا کہ میرے والد ایک خواب دیکھنے والے تھے جبکہ میں حقیقت پسند ہوں۔ یہ بات سو فی صد درست ہے۔ نہرو واقعتا خواب دیکھنے والے تھے اور ہر خواب دیکھنے والا ’’Idealist‘‘ ہوتا ہے۔ آج بھارت میں جو مضبوط جمہوریت ہے وہ پنڈت نہرو کے آئیڈیل ازم کا حاصل ہے۔ بھارت کی پارلیمان نہرو کا تحفہ ہے۔ بھارت کی تمام بھاری صنعتیں نہرو کے آئیڈیلزم کا عکس ہیں۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس کے تحت انہوں نے پاکستان کے ساتھ اقلیتوں کے تحفظ کا معاہدہ کیا۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس کے تحت وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس نے بھارت کے آئین میں اردو کو ایک قومی زبان کا درجہ دلایا۔ یہ نہرو کا آئیڈیلزم تھا جس کے تحت انہوں نے اپنی بہن وجے لکشمی پنڈت کی ایک مسلمان کے ساتھ شادی پر اعتراض نہ کیا۔ نہرو اسلامی تہذیب اور مسلمانوں سے حد درجہ متاثر تھے۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت نہرو کے دوست جوش ملیح آبادی کا ایک انٹرویو ہے۔ انٹرویو میں جوش سے پوچھا گیا کہ نہرو نے ان سے مسلمانوں کے بارے میں کیا کہا تھا؟ جوش نے بتایا کہ نہرو نے فرمایا کہ میں دوست کی حیثیت سے ہندو کی بنسبت مسلمانوں پر زیادہ اعتبار کرتا ہوں۔ اس لیے کہ مسلمان ایک جذباتی قوم ہیں، جذباتی قوم سے زیادہ وفاداری کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ میں ہندو کی محبت پر اعتبار نہیں کرتا۔ اس لیے کہ ہندو آنہ پائی میں سوچنے والی قوم ہیں۔ اس پر جوش نے نہرو سے کہا کہ میرا ایک ایسا ہندو دوست ہے جو آنہ پائی میں نہیں سوچتا۔ نہرو نے یہ سن کر کہا آپ تحقیق کیجیے وہ کسی مسلمان کا بیٹا ہوگا۔ (جوش ملیح آبادی۔ انٹرویوز اور مکالمات، صفحہ 504)

 

شاہنواز فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سوشلسٹ ا ئیڈیل مسلمانوں کے ا ئیڈیلز کے کے سوشلسٹ ا کے ا ئیڈیل اورنگ زیب نہیں ہوتی رسول اکرم اس کے بعد اس لیے کہ انہوں نے گا جب تک تھا مگر ہوتا ہے سیاست ا کے ساتھ کے پاس اور اس کے لیے مگر وہ کا ایک

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا